قومی

Amrit Wilson OCI Card Controversy: ملک کی بدنامی برداشت نہیں…، امرت ولسن کے او سی آئی کارڈ معاملے پر دہلی ہائی کورٹ سخت، مرکز سے جواب طلب

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے برطانیہ میں مقیم مصنفہ اور صحافی امرت ولسن کے اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ کی منسوخی کے خلاف دائر عرضی پر مرکزی حکومت سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ملک کی بدنامی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ معاملے کی آئندہ سماعت اگست میں مقرر کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس پرشیندر کمار کورو نے ریمارکس دیے کہ ہندوستان ایک برداشت کرنے والا ملک ضرور ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عالمی سطح پر اپنے ہی ملک کے خلاف مہم چلانے یا اس کی شبیہ کو نقصان پہنچانے کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے کہا کہ ریکارڈ پر موجود انٹیلی جنس بیورو کی رپورٹس میں ولسن کے خلاف مبینہ طور پر ”اینٹی انڈیا سرگرمیوں“ میں ملوث ہونے کے الزامات شامل ہیں۔

امرت ولسن کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل تریدیپ پیس نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی مؤکلہ کو جاری کیا گیا شوکاز نوٹس مبہم اور تفصیلات سے خالی تھا۔ ان کے مطابق نوٹس میں ایسے مخصوص الزامات بیان نہیں کیے گئے جن کی بنیاد پر ولسن اپنا مؤثر دفاع پیش کر سکتیں۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ولسن نے کسی بھی بھارت مخالف سرگرمی میں حصہ نہیں لیا اور ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے عدالت کو ایک سیل بند لفافہ پیش کیا، جس میں او سی آئی کارڈ منسوخ کرنے کی وجوہات درج تھیں۔ عدالت نے لفافہ ریکارڈ پر لیتے ہوئے حکومت کو ہدایت دی کہ وہ تحریری جواب داخل کرے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ آئندہ سماعت میں اس معاملے کے قانونی اور آئینی پہلوؤں کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا۔

امرت ولسن نے اپنی عرضی میں 17 مارچ 2023 کو لندن میں واقع بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ حکم کو منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا او سی آئی کارڈ منسوخ کرنا بادی النظر میں غیر قانونی، من مانی اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ یاد رہے کہ نومبر 2022 میں بھارتی ہائی کمیشن نے انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا تھا، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ بھارت کی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف نقصان دہ پروپیگنڈا میں شامل رہی ہیں۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ مبہم الزامات کی وجہ سے ولسن کو اپنا دفاع پیش کرنے کا مناسب موقع نہیں ملا، جس کے نتیجے میں ان کا او سی آئی کارڈ من مانی طور پر منسوخ کر دیا گیا۔ مزید کہا گیا کہ ایک مصنفہ اور صحافی کی حیثیت سے انسانی حقوق اور حکومتی پالیسیوں پر تبصرہ کرنا ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے، اور یہ اظہار رائے کے بنیادی حق کے دائرے میں آتا ہے۔ ولسن نے عدالت کو بتایا کہ او سی آئی کارڈ کی منسوخی کے باعث انہیں شدید ذہنی اذیت اور عملی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وہ طویل عرصے تک بھارت کا سفر نہیں کر سکیں، حالانکہ انہیں ایک تحقیقی منصوبے پر کام کرنا تھا جس میں وہ اپنی والدہ کی تحریروں پر مبنی ایک تشریح شدہ مجموعہ مرتب کرنا چاہتی تھیں۔ عدالت اب اس اہم آئینی معاملے پر اگست میں مزید سماعت کرے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

33 minutes ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

40 minutes ago

Delhi HC Order: پی ایم مودی کے ساتھ اپنی مبینہ ڈیپ فیک تصویر سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے دیا یہ حکم

عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…

2 hours ago