قومی

Atmanirbhar or America-nirbhar Bharat: ’آتم نربھر یا امریکہ نربھر بھارت؟‘ رندیپ سنگھ سرجے والا کی بھارت-امریکہ تجارتی فریم ورک پر سخت تنقید

 

نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ رندیپ سنگھ سرجے والا نے پیر کے روز مرکزی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حالیہ بھارت-امریکہ عبوری تجارتی فریم ورک میں بھارتی کسانوں، توانائی سلامتی اور ڈیجیٹل خودمختاری کو امریکی مفادات کے حق میں قربان کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے ’’آتم نربھر بھارت‘‘ کے نعرے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا ملک ’’امریکہ نربھر بھارت‘‘ کی طرف بڑھ رہا ہے؟ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرجے والا نے کہا: ’’بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے میں وزیر اعظم مودی حکومت نے کسانوں اور زرعی زمین مالکان کے مفادات کو قربان کیا۔ بھارتی توانائی سلامتی ملک کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ڈیجیٹل خودمختاری اور ڈیٹا پرائیویسی پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ بھارتی مفادات کے دفاع میں مضبوطی دکھانے کے بجائے حکومت نے ملک کی خودمختاری اور ڈیٹا تحفظ پر سمجھوتہ کیا ہے۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ یہ مضبوط حکومت ہے یا کمزور؟ کیا یہ آتم نربھر بھارت ہے یا امریکہ نربھر بھارت؟‘‘

وزارت خارجہ کے جواب پر بھی اعتراض

سرجے والا نے وزارت برائے امور خارجہ کے ردعمل پر بھی ناراضگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ جب بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے پر سوال کیا گیا تو وزیر خارجہ نے اسے ’’کسی دوسرے محکمہ کا معاملہ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر خارجہ کو اس عبوری معاہدے کی مکمل سمجھ بوجھ اور تفصیلی معلومات نہیں تو ایسا جواب اطمینان بخش نہیں ہو سکتا۔ سوال کو دوسرے محکمہ کی طرف منتقل کرنا کافی نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی سرجے والا نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ امریکی پراسیس شدہ پھلوں اور دیگر مصنوعات کے لیے بھارتی منڈی کھول کر ملک میں روزگار اور معاش پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 334 ملین ڈالر کی موجودہ کپاس درآمدات پہلے ہی مقامی قیمتوں میں کمی کا باعث بنی ہیں۔ انہوں نے یہ وضاحت بھی طلب کی کہ آیا دودھ، گیہوں اور ڈیری مصنوعات جیسے بنیادی اجناس کو بھی نئی زیرو ٹیرف رعایتوں میں شامل کیا گیا ہے یا نہیں۔

عبوری تجارتی معاہدے کا اعلان

سرجے والا کا ردعمل اُس وقت سامنے آیا جب بھارت اور امریکہ نے باہمی اور بافائدہ تجارت کے لیے ایک عبوری معاہدے کے فریم ورک کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی وسیع تر دوطرفہ تجارتی معاہدے (BTA) کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جس کا آغاز 13 فروری 2026 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم نریندر مودی نے کیا تھا۔ فریم ورک کے تحت بھارت نے تمام امریکی صنعتی مصنوعات اور متعدد زرعی و غذائی اشیا پر محصولات ختم کرنے یا کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان اشیا میں ڈرائیڈ ڈسٹلرز گرینز (DDGs)، جانوروں کے چارے کے لیے ریڈ سورگم، درختی میوے، تازہ اور پراسیس شدہ پھل، سویا بین آئل، شراب اور دیگر مصنوعات شامل ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026، پی ایم مودی اور صدر جمہوریہ نے تمغہ جیتنے والے بھارتی کھلاڑیوں کو دی مبارکباد

باکسنگ میں لو لینا بورگوہین، پروین ہڈا اور انکش پنگھال نے گولڈ جیتا، ریسلنگ میں…

13 seconds ago

IRCTC Case: آئی آر سی ٹی سی منی لانڈرنگ کیس میں لالو خاندان کی مشکلیں بڑھیں، لالو، رابڑی اور تیجسوی کی کل عدالت میں پیشی

IRCTC منی لانڈرنگ کیس میں لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو ہفتہ کو…

22 minutes ago

Raja Warring met Rahul Gandhi: پنجاب کانگریس میں بڑی تبدیلی، امریندر سنگھ راجہ وڈنگ نے راہل گاندھی کو سونپا استعفیٰ

امریندر سنگھ راجہ وڈنگ نے پنجاب کانگریس کے صدر کے عہدے سے باضابطہ استعفیٰ دے…

50 minutes ago

The Altruistic Saint of Indian Politics: ہندوستانی سیاست کے بے لوث درویش لال بہادر شاستری

لال بہادر شاستری نے اقتدار کی بلند ترین منزل پر پہنچ کر بھی عام آدمی…

1 hour ago