مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آسام اسمبلی انتخابات سے قبل بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) دوبارہ اقتدار میں آتی ہے تو ریاست میں یونیفارم سول کوڈ نافذ کیا جائے گا اور چار شادیوں پر پابندی عائد کی جائے گی۔ اتوار کو نلباڑی میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے غیر قانونی دراندازی کے خلاف سخت کارروائی کا وعدہ بھی کیا اور کہا کہ آئندہ پانچ برسوں میں ہر درانداز کی شناخت کرکے اسے ملک سے باہر نکال دیا جائے گا۔ امت شاہ نے اپنی تقریر میں الزام لگایا کہ انڈین نیشنل کانگریس نے ووٹ بینک کی سیاست کے لیے آسام کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کیا۔ انہوں نے کہا کہ دھوبری اور اس کے اطراف کے کئی اضلاع میں دراندازی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کانگریس حکومتوں نے دہائیوں تک غیر قانونی دراندازوں کے لیے راستے کھلے رکھے، جس کی وجہ سے ریاست کی سماجی اور ثقافتی شناخت متاثر ہوئی۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ موجودہ ریاستی حکومت نے سرحدی نگرانی کو مضبوط کیا ہے اور غیر قانونی قبضے سے بڑی مقدار میں زمین واپس حاصل کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے تقریباً ایک لاکھ 25 ہزار ایکڑ زمین دراندازوں سے خالی کرائی ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ بی جے پی حکومت دراندازی کے مسئلے کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے واضح حکمت عملی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
انہوں نے جلسے میں عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تیسری مرتبہ بی جے پی کو اقتدار میں لایا جائے تاکہ ریاست میں امن اور ترقی کا عمل مزید مضبوط ہو سکے۔ امت شاہ نے کہا کہ حکومت ہر درانداز کی شناخت کرے گی، انہیں ووٹر فہرست سے نکالا جائے گا اور قانونی کارروائی کے بعد انہیں واپس بھیجا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی زمین، ثقافت اور وسائل پر صرف مقامی باشندوں کا حق ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے ریاست میں امن کے قیام کا کریڈٹ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کو دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں کئی اہم امن معاہدے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بوڈو امن معاہدہ، کربی اینگلونگ معاہدہ، ڈی این ایل اے معاہدہ اور الفا امن مذاکرات جیسے اقدامات کے بعد ریاست میں تشدد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق دس ہزار سے زائد افراد ہتھیار چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہو چکے ہیں۔
امت شاہ نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی حکومت کے دوران ریاست میں بم دھماکوں اور تشدد کے واقعات میں واضح کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائی میں آسام میں استحکام پیدا ہوا ہے اور ترقیاتی منصوبوں کو رفتار ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ریاست کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ آسام میں 126 رکنی اسمبلی کے لیے 9 اپریل کو ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہوگی۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں موجودہ بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما کی قیادت میں بی جے پی مسلسل تیسری بار اقتدار میں آنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ کانگریس ریاست میں واپسی کے لیے انتخابی مہم تیز کر چکی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں بھارت ایکسپریس اردو کے…
بھارت ایکسپریس اردو کے تیسرے نیشنل کانکلیو کا نئی دہلی میں آغاز، سی ایم ڈی…
آر ایس ایس سربراہ نے نوجوانوں، تعلیم، برین ڈرین اور کردار سازی پر خیالات کا…
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص ہونے جا رہا…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی میں بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا تیسرا…
بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…