گوہاٹی: مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ جمعہ 20 فروری کو ریاست آسام کے ضلع کچھار میں اہم ترقیاتی اسکیم ‘وائبرینٹ ولیج پروگرام-II’ کا باضابطہ آغاز کریں گے۔ اس منصوبے کو سرحدی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور گاؤں سے نقل مکانی روکنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق پروگرام کا افتتاح کچھار ضلع کے ناتھن پور گاؤں میں کیا جائے گا۔ یہ اسکیم سرحدی گاؤں کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت ہند کی ایک بڑی پہل مانی جا رہی ہے، جس کے تحت بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کی معاشی اور سماجی ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔
‘وائبرینٹ ولیج پروگرام-II’ کو سیچوریشن بیسڈ اور کنورجنس ڈرِون حکمت عملی کے تحت تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد سرحدی علاقوں میں مکمل اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے سڑک، بجلی، صحت، تعلیم، مواصلات اور ڈیجیٹل سہولیات جیسی بنیادی خدمات کو دور دراز علاقوں تک پہنچایا جائے گا تاکہ سرحدی آبادی بھی ملک کے دیگر حصوں کے برابر ترقی حاصل کر سکے۔ حکام کے مطابق اس مرکزی اسکیم کے لیے مالی سال 2028-29 تک مجموعی طور پر 6,839 کروڑ روپے کا بجٹ مقرر کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کو ملک کی 15 ریاستوں اور دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نافذ کیا جائے گا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف سرحدی علاقوں کی معیشت مضبوط ہوگی بلکہ قومی سلامتی کو بھی تقویت ملے گی۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پروگرام کے آغاز سے ایک دن قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وائبرینٹ ولیج پروگرام نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اس وژن کو حقیقت میں بدلنے کا کام کیا ہے جس کا مقصد سرحدی گاؤں کو ترقی کے مرکزی دھارے سے جوڑنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے کے تحت سرحدی گاؤں میں وہ تمام سہولیات فراہم کی گئیں جو ملک کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں میں دستیاب ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے نے سرحدی علاقوں سے شہری علاقوں کی جانب ہجرت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور گاؤں کو خود کفیل اور خوشحال رہائشی مراکز میں تبدیل کیا۔ ان کے مطابق پروگرام کا دوسرا مرحلہ ان فوائد کو مزید وسیع دائرے تک پہنچاتے ہوئے سرحدی سلامتی کو مزید مضبوط بنائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحدی گاؤں کو ترقی دینا قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ مضبوط مقامی آبادی سرحد پار جرائم، اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ مقامی باشندے عملی طور پر ملک کی ’’آنکھ اور کان‘‘ بن کر سیکورٹی نظام کو مضبوط کرتے ہیں۔ دریں اثنا آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے کہا کہ ریاست مرکزی وزیر داخلہ کے استقبال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امت شاہ اپنے دورے کے دوران ریاست کی ترقیاتی مہم کو مزید آگے بڑھانے والی متعدد اسکیمیں عوام کے نام وقف کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ 21 فروری کو منعقد ہونے والی سی آر پی ایف یومِ تاسیس تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔ ریاستی حکومت کو امید ہے کہ وائبرینٹ ولیج پروگرام-II کے آغاز سے سرحدی علاقوں میں ترقی کی نئی رفتار پیدا ہوگی اور مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو
اپوزیشن کی جانب سے نئے نوٹس کا مسودہ تیار، قانونی ماہرین سے کرائی جا رہی…
اپوزیشن نے مارچ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں گیانیش کمار کو عہدے سے…
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ شہریوں کے لیے…
اسرائیلی وزیر اعظم نے نیویارک کے میئر زوہران ممدانی پر یہود مخالف جذبات کو ہوا…
مرکزی وزیر ہرش ملہوترا نے نئی دہلی سے ’یوتھ سیفٹی اینڈ اسمارٹ موبلٹی مہم 2026‘…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے پنڈت دین دیال اپادھیائے کو خراجِ عقیدت…