آزادی کی تحریک کے عظیم انقلابی اور بھگت سنگھ کے قریبی ساتھی بٹوکیشور دت کی برسی کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے انھیں جذباتی انداز میں خراج عقیدت پیش کیا۔ امت شاہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ بٹوکیشور دت نہ صرف ایک عظیم مجاہد آزادی ہیں بلکہ نوجوان نسل کے لیے بہادری، قربانی اور حب الوطنی کی علامت بھی ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے امت شاہ نے لکھا کہ ’’عظیم آزادی پسند، لاجواب بہادر اور لاتعداد نوجوانوں کے لیے مثال بٹوکیشور دت جی کو ان کی برسی پر خراج عقیدت۔ بھگت سنگھ جی کے ساتھ مل کر دہلی کی مرکزی قانون ساز اسمبلی میں بم پھینک کر برطانوی حکومت کے ہوش اڑانے والے بٹوکیشور دت جی کے لیے مادر ہند کی آزادی اور قوم کے فخر سے بڑھ کر کوئی چیز اہم نہیں تھی۔‘‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’’ کالا پانی کی اذیت بھی ان کے آزادی کے عزم کو متزلزل نہ کر سکی اور سیلولر جیل میں انھوں نے قیدیوں کے حقوق کے لیے طویل بھوک ہڑتال کی۔ بٹوکیشور دت جی کی بہادری کی داستان ہر محب وطن کو ’سب سے پہلے ملک‘ کی راہ پر گامزن کرتی رہے گی۔‘‘ واضح رہے کہ بٹوکیشور دت کو 1929 میں اس وقت عالمی شہرت ملی جب انھوں نے اور بھگت سنگھ نے دہلی کی مرکزی قانون ساز اسمبلی میں برطانوی سامراج کے خلاف ایک علامتی بم حملہ کیا۔
ان کا مقصد صرف برطانوی حکومت کو جھنجھوڑنا تھا، نہ کہ جانی نقصان پہنچانا۔ دونوں انقلابیوں نے اس کے بعد رضاکارانہ طور پر گرفتاری دی اور عدالت میں اپنے نظریات کا بھرپور دفاع کیا۔ بعد ازاں بٹوکیشور دت کو ’’کالا پانی‘‘ یعنی انڈمان کی سیلولر جیل میں قید کیا گیا، جہاں انھوں نے نہایت سخت حالات میں قیدیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی اور طویل بھوک ہڑتال کی قیادت کی۔ ان کی استقامت، اصول پسندی اور وطن سے محبت آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
امت شاہ نے اپنے پیغام میں راج ماتا کی زندگی کے اس پہلو کو نمایاں…
دہلی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور متعدد مقامات پر بیریکیڈنگ کی گئی…
اس مہم کے دوران بچوں کی صحت اور ان کی غذائی حالت کا جائزہ لینے…
نوراتری کے دوسرے دن عقیدت مند دیوی کو پھولاور روایتی بھوگ پیش کرتے ہیں اور…
شیوراج سنگھ چوہان نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال سے بھی بات…
گزشتہ سال وراٹ کوہلی کی ریڈ بال سے پریکٹس کرتے ہوئے کئی ویڈیوز سامنے آئی…