بیر بھوم (مغربی بنگال): اسمبلی انتخابات سے قبل مغربی بنگال میں سیاسی ماحول مزید گرم ہوگیا ہے، جہاں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے وزیراعلیٰ ممتابنرجی کی قیادت والی حکومت کو خواتین کی سلامتی کے معاملے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے میں حکومت مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ مایوریشور کے پَلّی منگل کلب گراؤنڈ میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے ممتا بنرجی کے اس بیان پر اعتراض کیا، جس میں انہوں نے خواتین کو شام سات بجے کے بعد گھروں سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا تھا۔ یہ بیان مبینہ طور پر آرجی کر میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل سے جڑے ایک ریپ کیس کے پس منظر میں سامنے آیا تھا۔ امت شاہ نے کہا کہ ایک خاتون وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود ممتا بنرجی ریاست کی بیٹیوں کی حفاظت میں ناکام رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال کسی بھی حکومت کے لیے شرمناک ہونی چاہیے۔ ریلی کے دوران شاہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک مضبوط متبادل کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست میں بی جے پی کی حکومت بنتی ہے تو خواتین کے لیے ایسا محفوظ ماحول بنایا جائے گا جہاں ایک کم عمر لڑکی بھی رات دیر گئے بلا خوف و خطر باہر جا سکے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ سندیس کھالی، آر جی کر، درگاپور لا کالج اور جنوبی کولکاتا لا کالج جیسے واقعات دوبارہ نہیں ہوں گے اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
فرقہ وارانہ سیاست کا الزام
امت شاہ نے ممتا بنرجی پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ اکثریتی طبقے کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی یہ تاثر دے رہی ہیں کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں نہ رہی تو اکثریتی طبقہ محفوظ نہیں رہے گا جو کہ سراسر غلط ہے۔ انہوں نے ماضی کے فسادات، رام نومی کے دوران تشدد اور سرسوتی پوجا پر پابندی جیسے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ان مواقع پر ریاستی حکومت کہاں تھی۔ مرکزی وزیر داخلہ نے الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس کے دور حکومت میں جرائم پیشہ عناصر کو کھلی چھوٹ حاصل ہے اور عوام کو دھمکیوں اور تشدد کے ذریعے دبایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے انتخابات میں عوام ’’بم کے جواب میں ووٹ‘‘ سے دیں گے اور خوف کی سیاست کو مسترد کریں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آئی تو تمام شرپسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور انہیں جیل بھیجا جائے گا۔
سرحدی سلامتی اور دراندازی کا معاملہ
امت شاہ نے ریاستی حکومت پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ سرحدی باڑ لگانے کے لیے بی ایس ایف کو زمین فراہم نہیں کر رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی حکومت بننے کے بعد 45 دن کے اندر اندر سرحدی باڑ مکمل کر دی جائے گی اور غیر قانونی دراندازوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ امت شاہ نے مایوریشور میں پانی کی قلت جیسے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت عوامی مسائل کو نظرانداز کر رہی ہے۔ اس کے برعکس انہوں نے مرکزی حکومت کی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے شانتی نکیتن کو یونیسکو عالمی ورثہ فہرست میں شامل کروایا اور بنگالی زبان کو کلاسیکی زبان کا درجہ دلایا۔
واضح رہے کہ مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو منعقد ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے اور دونوں پارٹیاں بھرپور انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں خواتین کی سلامتی، سرحدی امور، بے روزگاری اور فرقہ وارانہ سیاست جیسے مسائل انتخابی مباحثے کا مرکز بن چکے ہیں، جن پر آئندہ دنوں میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ پائیدار ترقی (Sustainability) ہندوستان کی روایت…
اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…
لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…
بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…