مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آسام اسمبلی انتخابات سے قبل گواہاٹی میں ایک بڑا روڈ شو کیا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی انتخابی مہم کو مزید تیز کرتے ہوئے طاقت کا مظاہرہ کیا۔ گواہاٹی میں ہونے والے اس روڈ شو کے دوران حامیوں کی بڑی تعداد سڑکوں کے کنارے جمع رہی تاکہ اپنے لیڈر کی ایک جھلک دیکھ سکے۔ امت شاہ نے بھی ہجوم پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے عوامی حمایت کا شکریہ ادا کیا اور پارٹی کارکنوں کا حوصلہ بڑھایا۔ یہ روڈ شو ایسے وقت میں ہوا ہے جب ریاست میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق آسام کی تمام 126 اسمبلی نشستوں پر ایک ہی مرحلے میں 9 اپریل کو ووٹنگ ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔
تیسری بار بھاری اکثریت سے حکومت بنائیں گے
گوہاٹی میں روڈ شو کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا: ’’ہم آسام میں تیسری بار زبردست اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے جا رہے ہیں۔ عوام بی جے پی اور این ڈی اے حکومت کو دوبارہ لانا چاہتے ہیں، اور ہم 90 سے زیادہ نشستوں کے ساتھ حکومت قائم کریں گے۔‘‘
بی جے پی کی مسلسل تیسری جیت کا ہدف
آسام میں بی جے پی حکومت، جس کی قیادت وزیراعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما کر رہے ہیں، مسلسل تیسری بار اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ ہمنتا بسوا سرما اپنے روایتی حلقہ جالوکباری سے انتخاب لڑیں گے، جہاں ان کی مضبوط سیاسی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ دوسری جانب کانگریس ریاست میں بی جے پی کو شکست دے کر اقتدار میں واپسی کے لیے کوشاں ہے، جس کے باعث مقابلہ سخت ہونے کا امکان ہے۔
بنگال میں بھی سیاسی گرما گرمی
اس سے قبل امت شاہ نے کولکاتا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ممتابنرجی پر ’’وکٹم کارڈ‘‘ کی سیاست کا الزام عائد کیا اور ٹی ایم سی حکومت کے خلاف چارج شیٹ جاری کی۔ واضح رہے کہ مغربی بنگال میں دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ووٹنگ ہوگی، جبکہ آسام اور بنگال دونوں کے انتخابی نتائج 4 مئی کو ایک ساتھ جاری کیے جائیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ندھی تیواری سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ فیس بک پر…
وزیر اعظم مودی سمیت لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، مرکزی وزیر مملکت برائے قانون و…
شرومنی اکالی دل (امرتسر) کے قائم مقام صدر ایمان سنگھ مان نے کہا کہ وہ…
شریئس ائیر کی کپتانی میں بھارتی ٹیم اب یکم اکتوبر کو دوسرا سیمی فائنل مقابلہ…
۔اس معاملے میں بس کی نگرانی کے انتظامات پر بھی سوال اٹھے تھے۔ بتایا گیا…
میزبان ازبکستان نے آخری راؤنڈ میں یوکرین کو 2.5-1.5 سے شکست دے کر گولڈ میڈل…