قومی

Proud moment for India: بھارت کیلئے فخر کا لمحہ: وزیرداخلہ امت شاہ نے دیوالی کو یونیسکو کی غیر مادی ورثہ فہرست میں شامل کیے جانے کا خیرمقدم کیا

نئی دہلی: روشنیوں کا تہوار دیوالی، جو بھارت بھر میں رنگا رنگ سجاوٹ، خوشی بھری محفلوں اور شاندار آتش بازیوں کے ساتھ منایا جاتا ہے اور جسے امید، روشنی اور نیکی کی برائی پر جیت کی علامت سمجھا جاتا ہے، اب عالمی سطح پر ایک نئے اعزاز سے سرفراز ہو گیا ہے۔ یونیسکو نے دیوالی کو اپنی غیر مادی ثقافتی ورثہ فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ اس فیصلے کو بھارت کی تہذیبی پہچان کیلئے اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اسے ملک کیلئے ’’فخر کا لمحہ‘‘ کہا۔ انہوں نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی قدیم تہذیبی اقدار آج کے جدید دور میں بھی اپنی معنویت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ امت شاہ نےایکس پر لکھا: ’’دیوالی کا یونیسکو کے غیر مادی ورثہ کی فہرست میں شامل ہونا بھارت کے لئے فخر کا لمحہ ہے۔ یہ ہماری قدیم ثقافتی روایات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ روشنیوں کا یہ تہوار ازل سے ہمیں یہ پیغام دیتا آیا ہے کہ نیکی اور حق کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے۔ اب یہ عالمی بہبود کے فروغ کا بھی ذریعہ بنے گا۔‘‘

وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا ردعمل

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی دیوالی کے UNESCO کی Intangible Cultural Heritage of Humanity فہرست میں شامل ہونے پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ دیوالی کی مذہبی، ثقافتی اور روحانی اہمیت کا اعتراف ہے، جو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

UNESCO کا بیان اور دیوالی کی تعریف

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بدھ کے روز تصدیق کی کہ UNESCO نے باقاعدہ طور پر دیپاولی کو اپنی عالمی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ UNESCO نے اپنی ویب سائٹ پر دیوالی کو ان الفاظ میں بیان کیا: ’’دیپاولی، جسے دیوالی بھی کہا جاتا ہے، روشنیوں کا تہوار ہے جسے بھارت میں مختلف برادریاں ہر سال مناتی ہیں۔ یہ سال کی آخری فصل اور نئے سال و نئے موسم کے آغاز کی علامت ہے۔ قمری کیلنڈر کے مطابق یہ تہوار اکتوبر یا نومبر کی نئی چاند رات کو منایا جاتا ہے اور کئی دن تک جاری رہتا ہے۔ یہ روشنی کی اندھیرے پر اور نیکی کی بدی پر فتح کی علامت ہے۔ لوگ اس موقع پر گھروں اور عوامی مقامات کی صفائی اور تزئین و آرائش کرتے ہیں، چراغاں کرتے ہیں، آتش بازی کرتے ہیں اور خوشحالی و نئی شروعات کی دعائیں مانگتے ہیں۔‘‘

بھارت کے دیگر ورثے جو فہرست میں شامل ہیں

دیوالی سے پہلے بھی کئی بھارتی ثقافتی عناصر UNESCO کی غیر مادی ثقافتی ورثہ فہرست میں شامل ہو چکے ہیں، جن میں شامل ہیں:

رام لیلا (2008)

نوروز (2024)

گربا—گجرات (2023)

دُرگا پوجا—کلکتہ (2021)

کمبھ میلہ (2017)

یوگا (2016)

تھتیروں کا روایتی پیتل اور تانبے کا ہنر—جندیالہ گرو، پنجاب (2014)

غیر مادی ثقافتی ورثہ کیا ہے؟

یونیسکو کے مطابق غیر مادی ثقافتی ورثہ ان روایات، رسوم، علم، فنون، اظہار، دستکاری اور سماجی عادات پر مشتمل ہوتا ہے جو کسی معاشرے کی شناخت کا حصہ ہوں اور نسل در نسل منتقل ہوتی رہیں۔ یہ ورثہ سماجی تبدیلیوں اور گلوبلائزیشن کے باوجود ثقافتی تنوع اور شناخت کو مستحکم رکھتا ہے۔ یونیسکو نے اس ورثے کے تحفظ کے لئے 2003 کا کنونشن 17 اکتوبر 2003 کو پیرس میں اپنی 32ویں جنرل کانفرنس کے دوران منظور کیا تھا، تاکہ ان ثقافتی روایات اور فنون کو بچایا جا سکے جو محدود وسائل اور تیز سماجی تبدیلیوں کے سبب خطرے میں ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

2 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

2 hours ago