نئی دہلی: جھارکھنڈ کے سابق وزیراعلیٰ اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے بانی شیبو سورین کے انتقال پر ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شیبو سورین کی سادگی اور عاجزی نے عوام کو جوڑ کر رکھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ جھارکھنڈ کے سابق وزیراعلیٰ شیبو سورین جی کے انتقال کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے جھارکھنڈ میں قبائلی برادری کے حقوق اور بااختیاری کے لیے کئی دہائیوں تک مسلسل جدوجہد کی۔ ان کی سادہ شخصیت اور انکساری نے انہیں عوام کے دلوں سے جوڑ کر رکھا۔ انہوں نے سورین خاندان اور ان کے حامیوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایشور دیونگت آتما کو اپنے چرنوں میں جگہ دے اور غمزدہ خاندان و چاہنے والوں کو اس دکھ کو برداشت کرنے کی طاقت دے۔ اوم شانتی شانتی شانتی۔‘‘
ریاستی حکومت کا تین روزہ سرکاری سوگ کا اعلان
واضح رہے کہ سابق وزیراعلیٰ اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے شریک بانی شیبو سورین کے انتقال پر4 اگست سے 6 اگست تک تین روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ و راجیہ سبھا رکن کے اعزاز میں ریاستی حکومت نے 3 دن کے ریاستی سوگ کا فیصلہ کیا ہے۔ سوگ کے دوران ریاستی سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا، کوئی سرکاری تقریب منعقد نہیں کی جائے گی اور تمام ریاستی سرکاری دفاتر بند رہیں گے۔
طویل علالت کے بعد دہلی میں انتقال
جھارکھنڈ کے سابق وزیراعلیٰ اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے سرکردہ رہنما شیبو سورین کا پیر کی صبح دہلی کے ایک اسپتال میں 81 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ شری گنگا رام اسپتال کے مطابق، سورین گردے کے عارضے میں مبتلا تھے اور ڈیڑھ ماہ قبل انہیں فالج کا دورہ بھی پڑا تھا۔ وہ گزشتہ ایک ماہ سے لائف سپورٹ پر تھے۔
دیشوم گرو کا سیاسی سفر
شیبو سورین کو عوامی طور پر ’دیشوم گرو‘ کے لقب سے جانا جاتا تھا۔ انہوں نے اے کے رائے اور بنود بہاری مہتو کے ساتھ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی بنیاد رکھی اور ریاستی شناخت کی تحریک کو قیادت دی۔ ان کی قیادت میں جھارکھنڈ 2000 میں ایک علیحدہ ریاست کے طور پر قائم ہوا۔ وہ تین بار جھارکھنڈ کے وزیراعلیٰ (2005، 2008-09، 2009-10) بنے اور 38 سال تک جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے صدر رہے۔ شیبو سورین نے اپنے چار دہائیوں پر محیط سیاسی کیریئر میں آٹھ بار لوک سبھا اور دو بار راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر خدمات انجام دیں۔ شیبو سورین کے انتقال سے جھارکھنڈ نے نہ صرف ایک تجربہ کار سیاسی رہنما بلکہ قبائلی حقوق کی ایک توانا آواز کو کھو دیا ہے۔ ہندوستانی سیاست میں قبائلی حقوق کے ایک عظیم علمبردار کی کمی محسوس کی جا رہی ہے، جنہوں نے اپنے عزم اور جدوجہد سے جھارکھنڈ کی شناخت کو قائم کیا اور قبائلی برادری کو سیاسی خودمختاری کی راہ دکھائی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
روپی سورین کے انتقال پر سیاسی و سماجی حلقوں میں غم کی لہر، صدر دروپدی…
نئی دہلی میں ’سیوا سنکلپ - راشٹر نرمان کے 25 سال‘ تقریب کا انعقاد، خدمت،…
ایشین گیمز 2026 میں کانسے کا تمغہ جیتنے والے ہندوستانی باکسر کپل پوکھریا کا اگلا…
نوبیل امن انعام 2026 کے اعلان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار…
راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے پٹنہ میں چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی)…
ایئر انڈیا کی اس نئی سہولت کا مقصد بیرون ملک پہنچنے کے بعد مقامی سم…