الہ آباد: الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم مقدمے کی سماعت کے دوران بڑا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ بالغ افراد کے درمیان باہمی رضامندی سے طویل عرصے تک قائم رہنے والے جسمانی تعلقات کو ریپ نہیں قرار دیا جا سکتا۔ عدالت نے یہ ریمارکس ایک ملزم کی جانب سے دائر کردہ پیشگی ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دیے اور ملزم کو مشروط طور پر پیشگی ضمانت فراہم کر دی۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک خاتون نے ملزم کے خلاف مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے پیشگی ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ اس کیس کی سماعت جسٹس راجیو لوچن شکلا کی سنگل بینچ نے کی، جہاں دونوں فریقین کے دلائل تفصیل سے سنے گئے۔
عدالت میں سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کو جھوٹے ریپ کیس میں پھنسانے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ملزم اور خاتون کے درمیان کافی عرصے سے باہمی رضامندی پر مبنی تعلقات قائم تھے، جنہیں بعد میں غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ ایف آئی آر میں درج تفصیلات اور متاثرہ خاتون کے بیان میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔ عدالت نے اس نکتے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ریکارڈ کا جائزہ لیا اور پایا کہ ایف آئی آر اور بعد میں درج کیے گئے بیان میں کئی اہم اختلافات موجود ہیں۔ عدالت کے مطابق خاتون کے بیان میں یہ بات سامنے آئی کہ اس نے سال 2022 سے ملزم کے ساتھ رابطہ شروع کیا تھا اور دونوں کے درمیان رضامندی سے تعلقات قائم ہوئے تھے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ خاتون تقریباً 35 سالہ بیوہ ہے اور اس کا ایک 15 سالہ بیٹا بھی ہے۔
سرکاری وکیل کی جانب سے پیشگی ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ملزم نے خاتون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے ساتھ زبردستی ریپ کیا اور اس میں اسلحہ کا استعمال بھی کیا گیا۔ تاہم عدالت نے اس دعوے کو خاتون کے دیگر بیانات سے متصادم قرار دیا۔ عدالت کے مطابق اسلحہ کے زور پر ریپ کا الزام خاتون کے بیان سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مزید برآں، عدالت نے یہ بھی کہا کہ میڈیکل جانچ کے دوران دیے گئے بیان میں بھی خاتون نے ملزم کے ساتھ تعلقات کو رضامندی پر مبنی بتایا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم کی کوئی مجرمانہ تاریخ نہیں ہے، جو اس کے حق میں ایک اہم پہلو ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر دو بالغ افراد کے درمیان طویل عرصے تک رضامندی سے تعلقات قائم رہے ہوں تو ایسے تعلقات کو بعد میں ریپ کا نام دینا درست نہیں ہوگا، خاص طور پر جب شواہد اس کے برعکس ہوں۔ عدالت نے مزید کہا کہ ایف آئی آر میں اہم تفصیلات کا فقدان اور بیانات میں تضاد استغاثہ کی کہانی پر ابتدائی طور پر شبہ پیدا کرتا ہے۔ تمام حقائق اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے ملزم کی پیشگی ضمانت کی درخواست منظور کر لی اور اسے ہدایت دی کہ وہ پولیس تحقیقات میں مکمل تعاون کرے۔ اس فیصلے کو قانونی حلقوں میں ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو مستقبل میں ایسے مقدمات کی سماعت پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…
سی بی ایس ای کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے 2 اگست 2026 کو ملک…
یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی شریک خزانچی راجیش منگل پیر کے روز…
پولیس نے دونوں کو جودھپور کے کیلاش نگر علاقے میں واقع ایک ہوٹل کے کمرے…
یمن میں حوثی باغیوں کے بڑھتے حملوں سے پریشان سعودی عرب نے شام، ترکیہ اور…