قومی

AIMPLB Protest against Waqf Amendment Bill 2024: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو جنتر منتر پر ملا اپوزیشن کا ساتھ، مودی حکومت پرکتنا ہوگا اثر؟

نئی دہلی: وقف (ترمیمی) بل 2024 کے خلاف دہلی کے جنترمنترپراحتجاجی مظاہرہ ہوا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت میں مسلم تنظیموں نے کندھے سے کندھا ملاکر ساتھ دیا۔ اس احتجاج کواپوزیشن کی کئی سیاسی پارٹیوں کی بھی حمایت ملی۔ اس درمیان احتجاجی مظاہرہ میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم)  کے سربراہ اسدالدین اویسی بھی شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے مرکزی حکومت پرجم کرحملہ بولا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس بل کا مقصد وقف کی جائیدادوں کو چھیننا ہے۔ اس درمیان مختلف ملی تنظیموں کے لیڈران نے بہارکے وزیراعلیٰ نتیش کماراورآندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ چندرا بابو نائیڈو سے شکوہ بھی کیا، جووقف ترمیمی بل کی حمایت کرنے کی جانب آگے بڑھ رہی ہیں۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بینرتلے ہوئے اس احتجاج میں مختلف ملی تنظیموں کی علاوہ سیاسی پارٹیوں نے جس اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے، وہ مرکز کی مودی حکومت پردباو بنانے میں کافی اہم ہے۔ احتجاج میں کانگریس اورسماجوادی پارٹی نے جم کرساتھ دیا اوران کا کہنا ہے کہ وہ وقف ترمیمی بل 2024 کے معاملے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اورمسلمانوں کے مطالبے کے ساتھ ہیں۔

کانگریس اور سماجوادی پارٹی نے دیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا بھرپورساتھ

جنترمنترپرہوئے احتجاج میں اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران نے بھرپور ساتھ دیا۔ اس میں کانگریس، سماجوادی پارٹی، ترنمول کانگریس، راشٹریہ جنتا دل (آرجے ڈی) این سی پی (شرد پوار گروپ)، سی پی آئی، سی پی آئی ایم ایل، انڈین یونین مسلم لیگ، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) اورشرومنی اکالی دل کے لیڈران شامل ہوئے۔ کانگریس اورسماجوادی پارٹی کے کئی اراکین پارلیمنٹ پورے احتجاج میں موجود رہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری اورراجیہ سبھا رکن ڈاکٹرسید ناصرحسین نے احتجاجی مظاہرہ کوخطاب کرتے ہوئے کہا کہ وقف سے متعلق بی جے پی حکومت کے ذریعہ بنایا جا رہا قانون مسلمانوں کے خلاف ہے، اس لئے ہم اس بل کے خلاف لڑرہے ہیں اورکانگریس پارٹی اس میں مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کے علاوہ کانگریس لیڈراورپورنیہ کے رکن پارلیمنٹ پپویادو، سہارنپورسے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود، بہارکے کشن گنج سے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹرجاوید احمد، آسام کے رکن پارلیمنٹ گوروگوگوئی، انڈیا اسلامک کلچرل سینٹرکے صدراورسابق رکن پارلیمنٹ سلمان خورشید، سابق رکن پارلیمنٹ کنوردانش علی وغیرہ نے اس احتجاج کو کامیاب بنانے میں کافی اہم رول ادا کیا۔ وہیں سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندریادو، ایودھیا کے رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو، سنبھل کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمن برق، پارٹی ترجمان عمیق جامعی وغیرہ نے شرکت کرکے وقف بل کی مخالفت کی۔

مودی حکومت پر کتنا ہوگا اثر؟

وقف ترمیمی بل 2024 کا ڈرافٹ تیارہونے سے لے کرجوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) میں بھیجے جانے کے بعد سے ہی مسلم تنظیمیں اوراپوزیشن پارٹیاں اس کی مخالفت کررہی ہیں، لیکن مرکزکی اقتدارپرقابض بی جے پی اس کومنظورکرانا چاہتی ہے۔ بی جے پی کو اس بل کومنظورکرانے کے لئے نتیش کمارکی جے ڈی یو اور آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ چندرا بابونائیڈو کی پارٹی تیلگودیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کا ساتھ ملنا ضروری ہے۔ اگریہ دونوں پارٹیاں اس بل کی حمایت نہ کریں تو پھریہ بل منظورہونا آسان نہیں ہوگا۔ مرکزی وزیر برائے پارلیمانی اموراوراقلیتی امورکرن رجیجونے 8 اگست کولوک سبھا میں وقف بل 2024 پیش کیا تھا۔ اپوزیشن کی مخالفت کے بعد حکومت نے اس پرجگدمبیکا پال کی صدارت میں جے پی سی بنائی تھی۔ 31 رکنی جے پی سی کی پہلی میٹنگ 22 اگست کوہوئی تھی۔ جے پی سی کی رپورٹ کی 16 اراکین نے حمایت کی تھی جبکہ 11 اراکین اس کی مخالفت کی تھی۔ کمیٹی میں شامل اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے اس بل پراعتراض ظاہرکیا۔ اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے اس رپورٹ کوغیرآئینی بتاتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یہ قدم وقف بورڈ کوبرباد کردے گا۔ تاہم جے پی سی چیئرمین جگدمبیکا پال کئی مواقع پرکہہ چکے ہیں کہ یہ قانون بنے گا۔ اس سے وقف بورڈ میں اصلاحات کی جا رہی ہے۔ انہوں نے جنترمنترپرہوئے احتجاج پربھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ قانون پارلیمنٹ میں بنتے ہیں اورسڑکوں پراحتجاج سے کچھ نہیں ہونے والا ہے۔ انہوں نے پہلے بھی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ پرسوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کچھ بھی کرلیں، یہ بل منظورہوگا اورقانون بنے گا۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس احتجاج سے مودی حکومت پرکتنا اثرہوگا؟ توموجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ بات آسانی سے کہی جاسکتی ہے کہ نتیش کماراورچندرا بابو نائیڈو دونوں اس بل کی حمایت کرنے کے لئے راضی ہوگئے ہیں اوراب اس احتجاج کا کوئی بہت زیادہ اثر ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ ہاں جمہوریت میں موافقت اورمخالفت کا حق ہرکسی کو حاصل ہے، اس لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو اپنا احتجاج درج کرانے کا جمہوری حق ہے، لیکن مودی حکومت پراس کا کوئی بہت اثرنہیں ہونے والا ہے۔

جے پی سی نے 14 ترامیم کو دی تھی منظوری

جگدمبیکا پال کی قیادت میں بنائی گئی جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) نے اس بل میں 14 ترامیم کومنظوری دی تھی۔ ان میں وقف بورڈ میں غیرمسلم اراکین کوشامل کرنا، بورڈ میں خواتین کی تقرری، وقف جائیداد، ضلع مجسٹریٹ کا کردار، وقف بورڈ کی جائیداد کا ڈیجیٹلائزیشن، غیرقانونی قبضہ روکنے، وقف ٹریبونل کی طاقت بڑھانا، سی ای اوکی تقرری اوروقف بورڈ کے ڈھانچے میں تبدیلیوں سمیت کئی ترامیم شامل ہیں۔ تاہم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اوراپوزیشن پارٹیوں نے جو تجاویز دیں، اس کوشامل نہیں کیا گیا، اس لئے یہ لڑائی بڑھتی گئی اورآرپارکی لڑائی کی صورت بن گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Rahul Gandhi: ’گیانیش کمار نے فارم-6 میں غیر قانونی تبدیلی کر کے عہدے کا غلط استعمال کیا‘، راہل گاندھی کا بڑا الزام

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری…

1 hour ago