قومی

AMU Minority Status: ’اے ایم یو معاملے میں مسلمان ہی ذمہ دار…‘ اے ایم یو اقلیتی درجے پر سماعت میں آئی یہ بڑی بات

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار پرمنگل اور بدھ کے روزسماعت ہوئی۔ اس دوران اے ایم یو ایکٹ، 1920 کا بھی ذکرکیا گیا، جس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ایک یونیورسٹی کے طورپرتسلیم کیا گیا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ وہ اس بات کی جانچ کرے گا کہ کیا ادارے کا فرقہ وارانہ کردارختم ہوگیا تھا، جب اسے 1920 میں اے ایم یو ایکٹ کے تحت ایک یونیورسٹی کے طورپرتسلیم کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑکی صدارت والی بینچ نے پوچھا، کیا اے ایم یو ایکٹ 1920 کے تحت اقلیتوں کے ذریعہ ادارے کے طورپراس کی صورتحال کومنسوخ کرنے کا نتیجہ ہے۔

چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑنے پوچھا کہ کیا یہ سچ ہے کہ کسی قانون کے تحت بنائے گئے ادارے کو اقلیتی درجہ حاصل کرنے پرپابندی ہے۔ مان لیجئے کہ ایک اقلیتی ٹرسٹ ہے، جوایک یونیورسٹی بناتا ہے۔ اب فاونڈیشن خود اقلیت ہے توکیا یونیورسٹی کے لئے اقلیتی منظوری حاصل کرنے پرپابندی ہے۔ مرکزی حکومت کا موقف رکھتے ہوئے سالسٹرتشارمہتا نے جواب میں کہا، اگرکسی کے اختیارکی خلاف ورزی ہوتی ہے تو یہ خلاف ورزی کرنے والا ہوگا، لیکن میں آپ کو ایک الگ راستے پرلے جا رہا ہوں۔ اس قانون کی جانچ کر رہے ہیں، جو تقریباً 100 سال پہلے شاہی پارلیمنٹ کے ذریعہ منظورکیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اور کیا کہا؟

سپریم کورٹ نے کہا کہ آج یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ مدد کے بغیرکوئی بھی ادارہ چاہے وہ اقلیتی ہویا غیراقلیتی، وجود نہیں رکھ سکتا۔ صرف مدد طلب کرنے یا مدد ملنے سے، آپ اپنی اقلیتی حیثیت کا دعویٰ کرنے کا اپنا حق نہیں کھوتے۔ یہ اب بہت اچھی طرح سے طے شدہ ہے۔ دن بھر کی سماعت کے دوران، سی جے آئی ڈی وائی چندر چوڑ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے 1920 کے قانون کے تحت اور آئین کو اپنانے کے موقع پر اے ایم یو کی حیثیت کے بارے میں پوچھا۔ سی جے آئی نے پوچھا، 1920 سے 25 جنوری 1950 کے درمیان کیا ہوا؟ تشارمہتا نے جواب دیا، میرا فوری جواب ہے، 1920 اور آئین کے نفاذ کے درمیان ایکٹ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ 1920 (ایکٹ) جوں کا توں ہے۔ پہلی ترمیم 1951 میں آئی۔

1920 میں ملا یونیورسٹی کا درجہ

واضح رہے کہ سال 1920 کا ایکٹ علی گڑھ میں ایک تدریسی اور رہائشی مسلم یونیورسٹی کو شامل کرنے کی بات کرتا ہے۔ 1951 میں اے ایم یو ایکٹ میں ترمیم کی گئی تاکہ مسلم طلباء کو یونیورسٹی کی طرف سے دی جانے والی لازمی مذہبی تعلیم کوختم کیا جا سکے۔ اے ایم یو کی اقلیتی حیثیت کے حق میں وکیل ایم آر شمشاد نے دلیل دی۔ اس معاملے کی آئندہ سماعت اب 30 جنوری کو ہوگی۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Join BJP Ahead of 2027 Assembly Polls: پنجاب میں اسمبلی انتخابات سے پہلے عام آدمی پارٹی کو بڑا جھٹکا، تین ارکانِ اسمبلی بی جے پی میں شامل

امرتسر نارتھ کے رکنِ اسمبلی کنور وجے پرتاپ سنگھ نے پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کلتار…

19 minutes ago

Azam Khan: اعظم خان نے ای ڈی کی گرفتاری کو سپریم کورٹ میں کیا چیلنج، فوری سماعت کی درخواست

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کا یہ مقدمہ رام پور میں ’مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ‘…

1 hour ago

We have to get the Senate: سینیٹ پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے ٹرمپ نے جھونکی پوری طاقت، بولے ’ہمیں ہر حال میں جیتنا ہوگا‘

کینیڈا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک کے…

2 hours ago

Cyclone Murasu: سائیکلون ’موراسو‘ مچائے گا تباہی، تیز ہواؤں اور سیلاب کا خطرہ، ماہی گیروں کو الرٹ

سمندری طوفان موراسو کے پیش نظر چنئی کے تمام اسکولوں میں پیر کے روز تعطیل…

3 hours ago

Florida Plane Crash Video: فلوریڈا میں طیارہ حادثہ، پائلٹ سمیت 9 افراد ہلاک، سڑک سے ٹکراتے ہی طیارہ آگ کے گولے میں تبدیل

حادثے کی ایک خوفناک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔ کاروں میں بیٹھے لوگوں نے طیارے…

4 hours ago