قومی

Saharanpur Mosque Demolition: ’’دوسرے مذہب کے عقیدے سے کھلواڑ کرنے والے سناتنی نہیں ہو سکتے…‘‘، مسجد انہدام معاملے میں اکھلیش یادو کا یوگی حکومت پر نشانہ

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے سنیچر کے روز سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں مسجد کے انہدام کو لے کر یوگی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے مذاہب کا احترام نہ کرنے اور کسی کے عقیدے کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے لوگ کبھی سچے سناتنی نہیں ہو سکتے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ سناتن دھرم نے انہیں ’وسودھیو کٹمبکم‘ کا پیغام دیا ہے، جس کے مطابق پوری دنیا ایک خاندان ہے اور سچا سناتنی باہمی ہم آہنگی پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سچا ہندو کبھی دوسرے کی توہین نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے میں ہم آہنگی برقرار رکھنا حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے، لیکن بی جے پی ایسے معاملات کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کا کام کر رہی ہے۔ سہارنپور میں ہوئی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیا مسجد کمیٹی کو پہلے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا موقع نہیں ملنا چاہیے تھا؟ انہوں نے الزام لگایا کہ حکام نے حکومت کے اشارے پر کارروائی کی، تاکہ متعلقہ فریق کو آئندہ عدالت میں انصاف حاصل کرنے کا موقع نہ مل سکے۔

چندہ چوری معاملے پر بی جے پی کو گھیرا

سماج وادی پارٹی کے سربراہ نے سہارنپور کے معاملے کو ایودھیا میں رام مندر سے متعلق چندے اور مالی بے ضابطگیوں سے جوڑتے ہوئے بی جے پی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ رام مندر سے متعلق چڑھاوے اور عقیدت مندوں کے پیسوں کی مبینہ چوری کے معاملے میں تحقیقات اور ایس آئی ٹی کی کارروائی کے بعد بی جے پی اس مسئلے کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر عوام کی توجہ بھٹکانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اب سمجھ چکے ہیں کہ اس طرح کے مدعے کے پیچھے کس طرح کی سیاست کی جا رہی ہے۔

جلد بازی میں کیوں کی گئی کارروائی؟

اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی کو بتانا چاہیے کہ اگر کسی معاملے میں عدالتی کارروائی آگے بڑھ سکتی تھی تو جلد بازی میں ایسی کارروائی کیوں کی گئی۔ انہوں نے صحافیوں سے بھی اپیل کی کہ کسی بھی معاملے کو سیاسی دباؤ یا چمک دمک کے اثر میں توڑ مروڑ کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سچا سناتنی وہی ہے جو باہمی ہم آہنگی اور بھائی چارے پر یقین رکھتا ہے۔

پڑھا لکھا بچہ کرے گا سوال

انہوں نے حکومت پر تعلیم کے معاملے میں پابندی عائد کرنے والا رویہ اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آج والدین سرکاری اسکول جاکر اپنے بچے کی پڑھائی اور تعلیمی پیش رفت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں بھی جھجھک محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پڑھا لکھا بچہ سوال کرے گا اور یہی وجہ ہے کہ حکومت تعلیمی نظام کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ رویہ ملک کے مستقبل کے مفاد میں نہیں ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

5 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

5 hours ago