لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی۔
بالاگھاٹ: مدھیہ پردیش کے بالاگھاٹ کے بیہر-برسا علاقے میں ملیریا اور موسمی بیماریوں کے باعث 30 بچوں کی موت پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
بچوں کی جان لے رہی ہے سہولیات کی کمی
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ مدھیہ پردیش کے بالاگھاٹ میں 30 قبائلی بچوں کی موت کی خبر انتہائی تشویشناک اور تکلیف دہ ہے۔ اس مہلک بیماری کے ساتھ پینے کے پانی، غذائیت اور بروقت علاج جیسی بنیادی سہولیات کی کمی بچوں کی جان لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی مکمل ناکامی ہے۔ وزیر اعلیٰ خود اس معاملے کا حل کریں اور علاقے میں فوری طور پر جانچ، علاج اور راحت کا انتظام کریں۔ بچوں کی زندگیوں سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
ایک اور بچے کی موت، تعداد 30 تک پہنچی
بیگا قبائلی گاؤں اترِیا آرام ٹولہ کے رہنے والے 10 سالہ گجیندر مرکام کی جمعرات، 3 ستمبر کو موت ہوگئی تھی۔ ابتدائی معلومات میں بچے کی طبیعت خراب ہونے اور ملیریا میں مبتلا ہونے کی بات سامنے آئی تھی۔ تاہم موت کی اصل وجہ کی سرکاری تصدیق محکمہ صحت کی جانچ اور طبی رپورٹ آنے کے بعد ہی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی علاقے میں مرنے والے بچوں کی تعداد 29 سے بڑھ کر 30 ہوگئی ہے۔
قبائلی اکثریتی اس علاقے میں مسلسل ہونے والی اموات کے باعث دیہی لوگوں میں خوف کا ماحول ہے۔ وہیں، وزیر اعلیٰ موہن یادو نے ہلاک ہونے والے بچوں کے اہل خانہ کو فی خاندان 2-2 لاکھ روپے کی امدادی رقم دینے کا اعلان کیا ہے۔
کانگریس کا حکومت پر حقائق چھپانے کا الزام
اس معاملے کو لے کر کانگریس نے بی جے پی کی ریاستی حکومت کے حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار پر نشانہ سادھا ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ حکومت اموات کے بارے میں حقائق چھپا رہی ہے اور مرنے والوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
798 افراد میں الگ الگ بیماریوں کی تصدیق
برسا بلاک کے کنڈیکسا، کورکا اور بونڈاری گاؤں میں گھر گھر جا کر کیے گئے ہیلتھ سروے کے دوران ملیریا، دست، ریشیز (چکتے) کے ساتھ بخار اور جلد کی بیماریوں کے مجموعی طور پر 798 کیسز سامنے آئے۔ اتوار تک کی سرکاری رپورٹ کے مطابق، 320 افراد ملیریا، 155 دست، 146 جسم پر ریشیز کے ساتھ بخار اور 177 افراد جلد کی بیماریوں میں مبتلا پائے گئے۔
569 کا گھر پر علاج، 229 اسپتال میں داخل
شناخت کیے گئے 798 مریضوں میں سے 569 کا گھر پر علاج کیا گیا، جبکہ 229 افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اسپتال میں داخل افراد میں سے 201 صحت یاب ہوکر گھر واپس جا چکے ہیں، جبکہ 28 کا علاج اب بھی جاری ہے۔ تینوں گاؤں میں گھر گھر جا کر ہیلتھ سروے اور علاج کا کام جاری ہے۔ طبی ٹیمیں نگرانی کر رہی ہیں اور ضرورت پڑنے پر مریضوں کو اسپتال میں داخل کرانے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
بیماریوں کی اصل وجہ ابھی واضح نہیں
بیماریوں کی درست وجہ ابھی تک حتمی طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ محکمہ صحت کے حکام نے ملیریا جیسے بخار اور جلد کے انفیکشن کے ساتھ ساتھ غذائی قلت سمیت مختلف قسم کے انفیکشن سے وابستہ علامات کی اطلاع دی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…