سال 2027 میں اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ ایسے میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد اپنی منصوبہ بندی کا انکشاف کیا ہے۔ اس میں انہوں نے اپنے پی ڈی اے فارمولے کا بھی خاص خیال رکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بنتے ہی وہ اساتذہ بھرتی میں مدد کریں گے اور ذات پر مبنی مردم شماری کرائیں گے۔ دراصل بدھ کے روز سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے لکھنؤ میں پارٹی دفتر میں پریس کانفرنس منعقد کی۔ اس دوران ایک صحافی نے ان سے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ان کے منصوبوں کے بارے میں سوال کیا، جس پر انہوں نے اس کا نام پوچھا۔ ایس پی سربراہ نے وعدہ کیا کہ وہ 90 دنوں کے اندر 69 ہزار اساتذہ بھرتی کے معاملے کو حل کریں گے اور امیدواروں کی مدد کریں گے۔انہوں نے 69 ہزار اساتذہ بھرتی میں ریزرویشن کو لے کر جاری تنازع پر کہا کہ اقتدار میں آنے کے 90 دن کے اندر ہی بھرتی کا عمل مکمل کریں گے۔ امیدواروں کی مدد کریں گے اور انہیں انصاف دلائیں گے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حکومت میں آتے ہی ذاتی مردم شماری بھی کرائیں گے۔
اساتذہ بھرتی معاملے پر اکھلیش کی خاص توجہ
سماجوادی پارٹی سربراہ کے مطابق 69 ہزار اساتذہ بھرتی میں ریزرویشن کے اصولوں پر صحیح طریقے سے عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اسے ایک بڑا ’گھوٹالہ‘ قرار دیا ہے۔ الزام ہے کہ او بی سی کو 27 فیصد کی جگہ صرف 3.86 فیصد ریزرویشن ملا۔ اسی طرح ایس سی امیدواروں کو 21 فیصد کی جگہ صرف 16.6 فیصد ریزرویشن دیا گیا۔
یعنی پی ڈی اے طبقے کے ساتھ 30 فیصد یعنی تقریباً 20 ہزار نشستوں کا گھوٹالہ ہوا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ایس ٹی کے 1133 عہدے خالی چھوڑ دیے گئے۔ اکھلیش یادو اس کے ذریعے او بی سی برادری کو متحد کرنا چاہتے ہیں تاکہ آئندہ انتخابات میں اس کا فائدہ مل سکے۔
69 ہزار اساتذہ بھرتی معاملہ کیا ہے؟
اترپردیش کی یوگی حکوتمت پر سال 2019 کی 69 ہزار اساتذہ بھرتی میں ریزرویشن قوانین کو نظر انداز کرنے کا الزام ہے۔ او بی سی طبقے کو 18,598 نشستیں ملنی چاہیے تھیں، لیکن انہیں صرف 2,637 نشستیں دی گئیں۔ باقی نشستیں دوسرے طبقوں کے امیدواروں کو دے دی گئیں، جو ریزرویشن قوانین کے خلاف ہے۔ اس معاملے میں ہائی کورٹ نے بھی مانا ہے کہ بھرتی کے عمل میں ریزرویشن نافذ کرنے کا طریقہ درست نہیں تھا اور اس میں کچھ بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔
اکھلیش یادو ذاتی مردم شماری کیوں کرانا چاہتے ہیں؟
اکھلیش یادو کا پی ڈی اے فارمولہ دراصل سماج کے تین بڑے طبقات—پسماندہ (او بی سی)، دلت اور اقلیتوں—کو ایک ساتھ لانے کی ایک سیاسی حکمت عملی ہے۔ اکھلیش یادو کے مطابق وہ سماج کے ان 95 فیصد لوگوں کی آواز اٹھا رہے ہیں، جنہیں وہ حقوق اور اختیارات سے محروم مانتے ہیں۔ وہ ان تمام طبقات کو متحد کرنا چاہتے ہیں۔اکھلیش یادو کا ماننا ہے کہ سماج میں سب کو برابری دلانے کے لیے ریزرویشن سب سے اہم ذریعہ ہے، اور اسے محفوظ رکھ کر ہی ملک کے آئین اور جمہوریت کی حفاظت کی جا سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…
صدر دروپدی مرمو نے کیوڈیا میں منعقدہ تقریب میں فلمی شخصیات کو قومی اعزازات سے…
ڈیوائن پبلک اسکول کی طالبہ کی وسرجن تقریب کے دوران اچانک طبیعت بگڑی، بعد میں…
وزیر اعظم نریندر مودی نے رِگ وید کا مقدس منتر شیئر کرتے ہوئے گناہوں سے…