نئی دہلی: بی جے پی کے سابق لیڈر کلدیپ سنگھ سینگر کی بیٹی ایشوریہ سینگر نے پیر کے روز شدید مایوسی کا اظہار کیا، جب سپریم کورٹ آف انڈیا نے 2017 کے اُنّاؤ عصمت دری کیس میں دہلی ہائی کورٹ کے اس حکم پر روک لگا دی، جس کے تحت ان کے والد کی عمر قید کی سزا معطل کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے فوراً بعد جاری بیان میں ایشوریہ سینگر نے کہا کہ دفاع کو معاملے کی اصل بنیاد (میرٹس) پر دلائل دینے کا موقع ہی نہیں ملا۔ انہوں نے کہا: ’’آج ہمیں کیس کے میرٹس پر بحث شروع کرنے تک کا موقع نہیں دیا گیا، کیونکہ شکایت کنندہ نے اپنا بیان کئی بار بدلا اور وقت بھی تین مرتبہ تبدیل کیا، پہلے دو بجے، پھر چھ بجے اور آخر میں آٹھ بجے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’ایمس کے میڈیکل بورڈ نے پایا کہ وہ 18 سال سے زائد عمر کی تھیں۔ سی ڈی آر ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ میں مبینہ واقعے کے مقام پر موجود ہی نہیں تھا۔ ریکارڈ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مبینہ وقت پر وہ خود فون کال پر تھیں۔‘‘
’آٹھ برس سے انصاف کے لیے لڑ رہے ہیں‘
ایشوریہ سینگر نے کہا کہ ان کا خاندان برسوں سے اس مقدمے کا سامنا کر رہا ہے۔ ’’میں گزشتہ آٹھ برسوں سے انصاف کے لیے لڑ رہی ہوں، لیکن شاید میرے اور میرے خاندان کے دکھوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ ہماری عزت، سکون اور یہاں تک کہ ہمیں سنے جانے کا بنیادی حق بھی چھین لیا گیا ہے۔ اس کے باوجود مجھے انصاف کی امید ہے۔ میں میڈیا سے گزارش کرتی ہوں کہ کوئی غلط معلومات نہ پھیلائی جائیں۔‘‘
سپریم کورٹ کا حکم
اس سے قبل دن میں سپریم کورٹ کی تین رکنی تعطیلاتی بنچ نے دہلی ہائی کورٹ کے 23 دسمبر کے حکم پر روک لگا دی۔ یہ روک سی بی آئی کی جانب سے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کیے جانے کے بعد لگائی گئی۔ سپریم کورٹ نے سینگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہائی کورٹ کا حکم فی الحال نافذ نہیں ہوگا اور کلدیپ سینگر کو جیل سے رہا نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ اگرچہ عام طور پر سزا کی معطلی کے احکامات بغیر ملزم کو سنے روکے نہیں جاتے، تاہم اس معاملے میں ’’غیر معمولی حالات‘‘ موجود ہیں، کیونکہ سینگر ایک دوسرے کیس میں بھی قید ہے۔ عدالت نے کہا: ’’ہم اس حقیقت سے واقف ہیں کہ جب کسی سزا یافتہ یا زیر سماعت ملزم کو رہا کیا جا چکا ہو تو ایسے احکامات عام طور پر بغیر سنے معطل نہیں کیے جاتے، لیکن موجودہ کیس میں مخصوص حالات ہیں، جہاں ملزم ایک علیحدہ جرم میں سزا یافتہ ہے۔ اس لیے ہم دہلی ہائی کورٹ کے 23 دسمبر کے حکم پر روک لگاتے ہیں اور جواب دہندہ کو رہا نہیں کیا جائے گا۔‘‘
پی او سی ایس او ایکٹ پر بحث
سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سی بی آئی کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پی او سی ایس او ایکٹ کے تحت ’’پبلک سرونٹ‘‘ میں وہ شخص بھی شامل ہوتا ہے جو کسی بچے پر بالادست حیثیت رکھتا ہو۔ ان کے مطابق، اس وقت کے طاقتور ایم ایل اے ہونے کے ناطے سینگر ایسی بالادستی رکھتے تھے، جس سے سخت دفعات لاگو ہوتی ہیں۔ دوسری جانب سینگر کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکلا نے سی بی آئی کی اپیل کی مخالفت کی اور دلیل دی کہ کسی ایم ایل اے کو پی او سی ایس او ایکٹ کے تحت سخت جرائم کے لیے ’’پبلک سرونٹ‘‘ نہیں مانا جا سکتا۔ بنچ نے تاہم اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ ہائی کورٹ کی تشریح سے ایک غیر معمولی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے، جس میں منتخب عوامی نمائندے دائرے سے باہر ہو جائیں اور نچلے درجے کے افسران اس میں شامل رہیں۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
دہلی ہائی کورٹ نے ابتدائی طور پر یہ کہتے ہوئے سینگر کی سزا معطل کی تھی کہ پی او سی ایس او ایکٹ کے تحت سخت جرم بظاہر ثابت نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود سینگر جیل میں ہی رہے، کیونکہ متاثرہ لڑکی کے والد کی حراستی موت سے متعلق علیحدہ کیس میں انہیں ضمانت نہیں ملی تھی۔ کلدیپ سنگھ سینگر کو 2019 میں دہلی کی ایک ٹرائل کورٹ نے آئی پی سی اور پی او سی ایس او ایکٹ کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے باقی قدرتی عمر تک قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ سینگر پی او سی ایس او ایکٹ کے تحت ’’پبلک سرونٹ‘‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی قانونی معاونت اور…
میرٹھ کے لِساڑی گیٹ علاقے میں شراب کی دکان پر مقررہ قیمت سے زیادہ رقم…
اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں بڑا تنظیمی ردوبدل، مایاوتی نے…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…