قومی

Indian Green Building Council: صرف بجلی ہی نہیں، دفتر بھی ’گرین‘، اڈانی گرین کے احمدآباد ہیڈکوارٹر کو آئی جی بی سی گولڈ ریٹنگ کا اعزاز

بھارت کی سب سے بڑی قابل تجدید توانائی کمپنی اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ (AGEL) نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ماحولیات کا تحفظ اس کے لیے محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ اس کی کارپوریٹ ثقافت کا حصہ ہے۔ احمدآباد کے شانتی گرام میں واقع کمپنی کے ہیڈکوارٹر ’کمرشل ٹاور-1‘ کو انڈین گرین بلڈنگ کونسل (IGBC) کی جانب سے گولڈ ریٹنگ سے نوازا گیا ہے۔یہ کامیابی اس بات کی عکاس ہے کہ اڈانی گرین سسٹین ایبلٹی کو صرف صاف توانائی کی پیداوار تک محدود نہیں رکھتی، بلکہ اسے اپنے روزمرہ کے کاروبار اور دفتری ماحول میں بھی عملی شکل دیتی ہے۔

توانائی کی بچت کے جدید انتظامات

اڈانی گرین کا یہ ہیڈکوارٹر جدید ٹیکنالوجی اور ماحول دوست ڈیزائن کی بہترین مثال ہے۔ عمارت میں توانائی بچانے والے ایئر کنڈیشننگ اور اسمارٹ لائٹنگ سسٹم نصب کیے گئے ہیں، جس کے باعث یہ عام عمارتوں کے مقابلے 12.28 فیصد کم بجلی استعمال کرتی ہے۔ اس کے علاوہ چھت پر نصب 44 کلو واٹ پی کا سولر سسٹم سالانہ تقریباً 67,921 یونٹ صاف بجلی پیدا کرتا ہے، جو عمارت کی تقریباً 4 فیصد بجلی کی ضرورت پوری کرتا ہے۔

پانی کے تحفظ پر خصوصی توجہ

ہیڈکوارٹر میں پانی کے بہتر انتظام کے لیے جدید فٹنگز اور بارش کے پانی کو زمین میں جذب کرنے کے لیے چھ رین واٹر پرکولیشن ویلز بنائے گئے ہیں، جس سے تازہ پانی کے استعمال میں 39.51 فیصد تک کمی آئی ہے۔ استعمال شدہ پانی کو ٹریٹ کر کے دوبارہ باغبانی اور صفائی کے کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

ری سائیکل مواد سے تعمیر

عمارت کی تعمیر کے دوران بھی ماحولیات کا خاص خیال رکھا گیا۔ تعمیر میں 22 فیصد سے زیادہ ری سائیکل شدہ مواد اور 73 فیصد مقامی وسائل استعمال کیے گئے۔ اس کے ساتھ ہی تعمیر کے دوران پیدا ہونے والے 95 فیصد کچرے کو لینڈفل میں پھینکنے کے بجائے دوبارہ استعمال یا ری سائیکل کیا گیا۔تقریباً 5.19 ایکڑ پر پھیلے اس خوبصورت کیمپس میں 350 سے زائد پودے لگائے گئے ہیں۔ ملازمین کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہوا کے معیار کے لیے اعلیٰ درجے کے فلٹر اور جدید وینٹی لیشن سسٹم لگایا گیا ہے۔ یہاں سائیکل چلانے کی سہولت اور پبلک ٹرانسپورٹ تک آسان رسائی بھی فراہم کی گئی ہے، تاکہ آلودگی میں کمی لائی جا سکے۔یہ گولڈ ریٹنگ اڈانی گرین انرجی کے اس مشن کو مزید مضبوط بناتی ہے، جس کے تحت کمپنی سنگل یوز پلاسٹک فری، زیرو ویسٹ اور ’واٹر پازیٹو‘ بننے کی سمت مسلسل کام کر رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

8 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

9 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

9 hours ago