آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے اپوزیشن کے امیدوار جسٹس بی سدرشن ریڈی کی حمایت کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ پارٹی سربراہ اسد الدین اویسی نے ’ایکس‘ پر پیغام میں کہا کہ وزیراعلیٰ تلنگانہ ریونت ریڈی نے فون پر حمایت کی درخواست کی جسے پارٹی نے منظور کیا۔ اویسی کے مطابق، جسٹس ریڈی ایک اہم شہری اور معزز قانون داں ہیں، اس لیے انہیں نیک خواہشات بھی پیش کی گئیں۔
انتخابی مقابلہ اور تاریخ
نائب صدرِ جمہوریہ کے انتخابات میں اپوزیشن کے جسٹس بی سدرشن ریڈی کا مقابلہ این ڈی اے امیدوار سی پی رادھا کرشنن سے ہوگا۔ پولنگ 9 ستمبر کو منعقد ہوگی اور ووٹوں کی گنتی بھی اسی روز مکمل کی جائے گی۔ اس سے قبل آر جے ڈی کے رہنما تیجسوی یادو سمیت متعدد اپوزیشن شخصیات نے جسٹس ریڈی کی حمایت کا اعلان کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ آئین و جمہوریت کے مؤثر نگہبان ثابت ہوں گے۔
وسیع سیاسی حمایت
جسٹس سدرشن ریڈی کی نامزدگی کو اپوزیشن کی کئی بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے جن میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار)، سماج وادی پارٹی، ڈی ایم کے، شیو سینا (یو بی ٹی)، عام آدمی پارٹی اور ترنمول کانگریس شامل ہیں۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات ایسے غیر جانبدار اور باوقار منصب دار کے متقاضی ہیں جو سب کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
جسٹس بی سدرشن ریڈی کا قانونی سفر
جسٹس بی سدرشن ریڈی گوہاٹی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں اور 2007 میں سپریم کورٹ کے جج مقرر ہوئے، جہاں سے جولائی 2011 میں ریٹائر ہوئے۔ انہوں نے 1990 میں مرکزی حکومت کے ایڈیشنل اسٹینڈنگ کاؤنسل کے طور پر خدمات انجام دیں، عثمانیہ یونیورسٹی کے قانونی مشیر بھی رہے اور 2 مئی 1995 کو آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے مستقل جج مقرر ہوئے۔ ان کا پیشہ ورانہ ریکارڈ غیر جانب داری، آئینی بالادستی اور عدالتی وقار کے لیے معروف سمجھا جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
فروری 2026 میں سرحد پر بڑھتی کشیدگی کے بعد افغان طالبان فورسز نے پاکستانی فوجی…
بتایا جا رہا ہے کہ آئی آئی ٹی ممبئی کیمپس میں گزشتہ تقریباً 7 ماہ…
ہگلی میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کے سوال پر ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کلیان…
تفتیش کے مطابق سیا اور چیتن اکتوبر 2025 سے مسلسل ایک دوسرے کے رابطے میں…
ٹرمپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ تجارتی جنگ میں امریکہ کے پاس برتری ہے، لیکن…
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…