مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کے معطل ایم ایل اے ہمایوں کبیر اب وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے لئے نئی سیاسی مشکلات کھڑی کرنے والے ہیں۔ انہوں نے اسدالدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ آئندہ سال مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست میں مسلم آبادی 35 فیصد سے زیادہ ہے۔ ایسے میں ہمایوں کبیر کا اس طرح چیلنج پیش کرنا ممتا بنرجی کے لئے خاصا دردسر بن سکتا ہے۔ ممتا بنرجی اس وقت کئی محاذوں سے گھری ہوئی ہیں۔ ایک طرف ٹی ایم سی کے سابق ایم ایل اے ہمایوں کبیر نے مرشدآباد میں بابری مسجد کا سنگِ بنیاد رکھ کر بی جے پی کو ریاست میں ’اپر ہینڈ‘ دے دیا ہے۔ دوسری جانب مسلمانوں کی نمائندہ سمجھی جانے والی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کی بنگال میں زور دار انٹری اور اسے ہمایوں کبیر کی کھلی حمایت، ممتا بنرجی کے لیے کسی بھی طور اچھا اشارہ نہیں سمجھا جا رہا۔
بی جے پی ممتا بنرجی پر حملہ آور
ادھر مغربی بنگال کی اہم اپوزیشن جماعت بی جے پی ممتا بنرجی پر شدید حملہ آور نظر آ رہی ہے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق رکنِ پارلیمان شاہنواز حسین نے بنگال میں بابری مسجد تنازع کو ممتا کی ’دین‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ممتا بنرجی نے ہی ٹی ایم سی کے معطل ایم ایل اے ہمایوں کبیر کو یہ قدم اٹھانے کے لیے اکسایا اور جب معاملہ الٹا پڑ گیا تو انہیں پارٹی سے نکال دیا۔ خیال رہے کہ 6 دسمبر 2025 کو مرشدآباد میں ٹی ایم سی کے معطل ایم ایل اے ہمایوں کبیر نے بابری مسجد کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس سے قبل انہوں نے بنگال میں بابری مسجد تعمیر کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ بی جے پی نے اس معاملے کو زور شور سے اٹھایا، اور حالات بگڑتے دیکھ کر ٹی ایم سی نے ہمایوں کبیر کو معطل کر دیا۔
ہمایوں کبیر نئی پارٹی بنانے جا رہے ہیں
اب ہمایوں کبیر ممتا بنرجی کے لیے ایک اور بڑا جھٹکا دینے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ 22 دسمبر کو اپنی نئی پارٹی تشکیل دیں گے اور اے آئی ایم آئی ایم کے ساتھ اتحاد کرکے انتخابات لڑیں گے۔
ممتا بنرجی کی پریشانی میں اضافہ
ریاست میں مسلم آبادی کے تناسب کو دیکھتے ہوئے ممتا بنرجی کی پریشانی بڑھنا فطری ہے۔ اگرچہ روایتی طور پر مسلم ووٹ ٹی ایم سی کو جاتا رہا ہے، مگر گزشتہ برسوں میں اے آئی ایم آئی ایم نے بھی بنگال میں اپنی مضبوط موجودگی قائم کی ہے۔ ہمایوں کبیر اور اویسی کا یہ اتحاد ممتا کے مسلم ووٹ بینک میں دراڑ ڈال سکتا ہے۔ بہار اس کی تازہ مثال ہے۔
’’میں کسی کو کیوں جواب دوں؟‘‘ — ہمایوں کبیر
بابری مسجد کی بنیاد رکھنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہمایوں کبیر نے کہا کہ میں خوش ہوں کہ میری آواز پر اتنی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔ میں اپنی پارٹی لے کر آؤں گا۔ ہمیں دنیا بھر سے ڈونیشن مل رہا ہے اور لوگ میرا ساتھ دے رہے ہیں۔ اب طے ہے کہ میں اویسی کے ساتھ مل کر ٹی ایم سی اور بی جے پی کے خلاف انتخاب لڑوں گا۔ مجھے کسی کو جواب نہیں دینا۔ میں آخر کسی کو کیوں جواب دوں؟
بھارت ایکسپریس اردو۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…