نئی دہلی: ماہِ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی قومی دارالحکومت میں ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کی دہلی یونٹ کے صدر شعیب جمئی نے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان کے مقدس مہینے کے دوران دہلی میں شراب کی تمام دکانیں بند کی جائیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ روزے کے ایام میں نہ صرف شراب کے ٹھیکے بند کیے جائیں بلکہ عوامی مقامات پر اس کی فروخت اور استعمال پر بھی پابندی عائد کی جائے۔
شعیب جمئی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری اپنے بیان میں کہا، ”جب آپ ساون کے مہینے میں نان ویج کی دکانیں بند کرا کر احترام چاہتے ہیں تو ہمارے مقدس مہینے میں بھی آپ کو احترام کرنا چاہیے“۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح بعض ریاستوں میں ساون کے دوران مذہبی جذبات کے پیش نظر گوشت کی دکانیں بند رکھی جاتی ہیں، اسی طرح رمضان میں بھی مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ مسلمانوں کا مقدس مہینہ رمضان جمعرات سے شروع ہو چکا ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز ملک کے عوام کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ رمضان کا یہ بابرکت مہینہ معاشرے میں اتحاد اور ہم آہنگی کے جذبے کو مزید مضبوط کرے اور ہر جگہ امن و خوشحالی قائم رہے۔
رمضان اسلامی قمری کا نواں مہینہ ہے جو چاند نظر آنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اس دوران مسلمان سحری سے افطار تک روزہ رکھتے ہیں، مساجد میں خصوصی تراویح کی نماز ادا کی جاتی ہے اور قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ عید کا چاند نظر آنے تک جاری رہتا ہے۔ ادھر شعیب جمئی کے بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ حلقے اسے مذہبی احترام کا تقاضا قرار دے رہے ہیں تو بعض ماہرین اسے انتظامی اور قانونی دائرہ کار سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ تاہم دہلی حکومت کی جانب سے اس مطالبے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
547 مقدمات درج، 182 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات ضبط ہوئی ہیں اور منشیات…
راہل گاندھی کی حامی نیہا بورا نے کہا کہ ’بنگلہ دیش نے ہمیں ایک راستہ…
آئی ٹی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ بھارت تجارتی یا سوشل…
وزیر اعظم نریندر مودی کی عوامی زندگی اور حکمرانی کے 25 سال مکمل ہونے پر…
ویسٹ انڈیز کے خلاف چوتھے ٹی 20 میں ایک چھکا لگاتے ہی ابھیشیک شرما نے…
کانگریس لیڈر نے صدر دروپدی مرمو سے دشیانت گوتم کی تقرری پر دوبارہ غور کرنے…