بھارت ایکسپریس۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی۔ (فائل فوٹو)
مہاراشٹرکے نائب وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کے ’اورنگ زیب کی اولاد‘ سے متعلق بیان پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) سربراہ اسدالدین اویسی مشتعل ہوگئے۔ جمعرات کے روزاسدالدین اویسی نے جوابی حملہ کیا اور’گوڈسے کی اولاد‘سے متعلق طنز کیا۔ اویسی نے کہا کہ مہاراشٹر کے وزیرداخلہ دیویندر فڑنویس نے کہا ’’اورنگ زیب کی اولاد۔ اچھا… آپ کو معلوم ہے کون کس کی اولاد ہے؟ یہ آپ کو معلوم ہے۔ “
اویسی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اتنے ایکسپرٹ ہیں آپ۔ پھر یہ گوڈسے کی اولاد کون ہے؟ دراصل، اسدالدین اویسی کا یہ بیان مہاراشٹر کے کولہا پور میں ہوئے دو طبقوں کے درمیان کشیدگی کے بعد آیا ہے۔ کولہا پور میں ہوئی ہنگامہ آرائی کے بعد 36 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ایک شخص نے اپنی واٹس اپ اسٹیٹس پر مغل بادشاہ اورنگ زیب کی تصویر لگائی۔ اس کے بعد کچھ لوگوں کی طرف سے ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی۔ کولہاپور سمیت کئی مقامات پر تصادم اورکشیدگی کی خبریں آنے لگیں۔ پھراحتجاج شروع ہوگیا۔ انہیں حادثات کا ذکر کرتے ہوئے نائب وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا تھا، ”مہاراشٹر کے کچھ اضلاع میں اچانک اورنگ زیب کی اولادیں پیدا ہوگئی ہیں۔ یہ اورنگ زیب کی تصویر دکھاتے ہیں اوراسٹیٹس لگاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے کشیدگی بنی ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اچانک اتنی اورنگ زیب کی اولادیں کہاں سے پیدا ہو رہی ہیں؟ ان کے پیچھے کون ہیں؟
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ دیویندر فڑنویس نے دعویٰ کیا کہ خاص فرقے کے لوگ اورنگ زیب کی تعریف کر رہے ہیں اور مہاراشٹر کے کچھ علاقوں میں فساد جیسے حالات پیدا ہور ہے ہیں۔ انہوں نے اس کے پیچھے کچھ سیاسی لیڈران کے ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا۔ دیویندر فڑنویس نے کہا کہ اچانک اورنگ زیب اور ٹیپو سلطان کی تصویریں لہرائی جا رہی ہیں۔ یہ اتفاق نہیں ہوسکتا ہے۔“
بھارت ایکسپریس۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…