قومی

AI Content Labeling Mandatory: اب اے آئی مواد پر لیبل لازمی! نئے آئی ٹی قوانین نافذ، جانیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے کیا آئی تبدیلی؟

الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت کی جانب سے اے آئی مواد سے متعلق جاری نئی گائیڈ لائنز پر آج سے عمل کرنا لازمی ہو جائے گا۔ 10 فروری کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے یوٹیوب، انسٹاگرام، سنیپ چیٹ، ایکس اور فیس بک کو اپنے پلیٹ فارم پر شیئر کیے جانے والے اے آئی سے تیار کردہ مواد پر واضح لیبل لگانا ہوگا۔ اس کے علاوہ اگر کوئی ڈیپ فیک ویڈیو یا تصویر اپ لوڈ کی جاتی ہے تو اسے تین گھنٹوں کے اندر ہٹانا لازمی ہوگا۔ وزارت نے اس مقصد کے لیے آئی ٹی رولز 2021 میں ترمیم بھی کی ہے۔قابل ذکر ہے کہ نئے قوانین کا مقصد ڈیپ فیک اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ مواد کی شناخت اور ٹریسنگ کو یقینی بنانا ہے۔ اب ہر اے آئی سے بنائے گئے مواد پر واضح طور پر لکھنا لازمی ہوگا کہ یہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے غلط معلومات کے پھیلاؤ اور انتخابی دھاندلی جیسے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

تمام اے آئی آڈیو اور ویڈیو پر لیبل لازمی

نئے آئی ٹی رول 3(3) کے تحت جو بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم اے آئی سے تیار کردہ یا مصنوعی طور پر جنریٹ کی گئی معلومات شائع کرے گا، اسے ہر ایسے مواد پر نمایاں لیبل لگانا ہوگا۔ اس کے ساتھ مستقل اور منفرد میٹا ڈیٹا یا شناختی کوڈ شامل کرنا بھی ضروری ہوگا۔یہ لیبل ویڈیو یا تصویر کے کم از کم 10 فیصد حصے پر نظر آئے گا، جبکہ آڈیو مواد میں ابتدائی 10 فیصد دورانیے کے اندر سنائی دینا لازمی ہوگا۔ پلیٹ فارمز کو ایسے تکنیکی نظام بھی اپنانے ہوں گے جن کے ذریعے اپ لوڈ سے پہلے ہی یہ جانچ ممکن ہو سکے کہ مواد اے آئی سے تیار کیا گیا ہے یا نہیں۔

نئے آئی ٹی قوانین میں تین بڑی تبدیلیاں

پہلا: ایک بار اے آئی لیبل لگنے کے بعد اسے ہٹانا یا چھپانا ممکن نہیں ہوگا۔

دوسرا: فحش، گمراہ کن یا غیر قانونی مواد پر قابو پانے کے لیے ٹیک کمپنیوں کو خودکار ٹولز استعمال کرنا ہوں گے، جو اے آئی سے بنے غیر قانونی یا دھوکہ دہی والے مواد کو روک سکیں۔

تیسرا: ہر تین ماہ بعد کمپنیوں کو اپنے صارفین کو کم از کم ایک مرتبہ انتباہ جاری کرنا ہوگا۔ صارفین کو بتایا جائے گا کہ اے آئی کا غلط استعمال یا قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ یا قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔

صارفین اور انڈسٹری پر اثرات

نئے قوانین نافذ ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین جعلی مواد کو آسانی سے پہچان سکیں گے، جس سے غلط معلومات کے پھیلاؤ میں کمی آئے گی۔ تاہم کانٹینٹ تخلیق کاروں کو اضافی اقدامات کرنے ہوں گے، جیسے لازمی لیبلنگ اور تصدیقی عمل۔ انڈسٹری کے لیے سب سے بڑا چیلنج میٹا ڈیٹا اور ویریفکیشن ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری ہوگا، جس سے آپریشنل اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر حکومت کے مطابق یہ اقدامات ایک محفوظ، شفاف اور جوابدہ انٹرنیٹ نظام قائم کرنے کی سمت اہم قدم ہیں، جو جنریٹو اے آئی

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Nandigram by-election: نندی گرام ضمنی انتخاب، سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی حمایت کے اعلان کے بعد کانگریس امیدوار ملن پردھان گرفتار

ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…

26 minutes ago

India vs Afghanistan T20: بھارت-افغانستان سیریز کے دوران 19 افراد گرفتار، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

13 ستمبر کو بھارت نے پہلا میچ 7 وکٹ سے جیتا، جب کہ دوسرے مقابلے…

2 hours ago

Prime Minister Modi: دہلی میں ماحولیات پر بڑا بین الاقوامی اجلاس، وزیر نریندر اعظم مودی 19 ستمبر کو کریں گے افتتاح

’ماحولیات اور آب و ہوا کی حرکیات کا مستقبل‘ کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس،…

2 hours ago