نئی دہلی کے تاج پیلس میں پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PHDCCI) کے زیر اہتمام منعقدہ ایگری بزنس سمٹ 2025 اختتام پذیر ہوگیا۔ یہ اجلاس ایک اہم موقع تھا جس میں ملک بھر کے ماہرین، صنعت کاروں، پالیسی سازوں اور متعلقہ اداروں نے بھارتی زرعی نظام کی ترقی، جدیدیت اور پائیدار مستقبل کے حوالے سے اپنی بصیرت، تجاویز اور عزم کا اظہار کیا۔ اختتامی موقع پر تمام شرکا نے اس عہد کا اعادہ کیا کہ بھارت کی زرعی معیشت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اسے ترقی، اختراع اور عالمی مسابقت کا مرکز بنایا جائے گا۔
’پانی کے بغیر زراعت نامکمل‘—ڈاکٹر راج بھوشن چودھری
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے جل شکتی ڈاکٹر راج بھوشن چودھری نے کہا کہ: ’’پانی زراعت کی بنیادی ضرورت ہے، اس کے بغیر کھیتی کا تصور بھی ناممکن ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ زرعی نظام میں کھاد کے کم استعمال، متوازن غذائیت اور پانی کے بہتر نظم کے باوجود صرف چار فیصد محفوظ پینے کا پانی دستیاب ہے جو تشویشناک ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید بارشوں، فلیش فلڈز، زیر زمین پانی کی کم ہوتی سطح اور آلودگی کے چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت پانی کے تحفظ اور اس کے دانشمندانہ استعمال کا ہے۔ انہوں نے اس غلط فہمی کو بھی رد کیا کہ کھادیں زیر زمین پانی پیدا کرتی ہیں۔ ڈاکٹر چودھری نے کہا کہ حکومت وزیراعظم کی رہنمائی میں اس حوالے سے اہم قدم اٹھا رہی ہے اور پانی کے تحفظ کو اتنی ہی اہمیت دی جانی چاہیے جتنی آج انٹرنیٹ تک رسائی کو دی جاتی ہے۔
’کسان جذبات اور پالیسی کا مرکز‘—ڈاکٹر پی کے سنگھ
وزارت زراعت و کسان فلاح کے کمشنر ڈاکٹر پی کے سنگھ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو سال 2047 تک زرعی خودکفالت حاصل کرنے کے لیے عملی اقدامات اور مضبوط پالیسی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے جی ایم کاٹن کے تجربے، کم لاگت زرعی ان پٹ، مکینائزیشن، بہتر فصلوں، مختصر مدت کی کاشت، اعلیٰ پیداوار اور اجناس کی بہتر شرح منافع پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ: ’’ہمیں زراعت میں ایسی ٹیکنالوجی چاہیے جو کسان کی آمدنی بڑھائے اور پیداواری لاگت کم کرے، ساتھ ہی غذائی سلامتی، موسمیاتی لچک، تحقیق اور زرعی ڈھانچے کو بھی مضبوط کیا جائے۔‘‘ انہوں نے بھگود گیتا کا حوالہ دیتے ہوئے علم اور عمل کے ملاپ کو بھارت کی زرعی ترقی کی کلید قرار دیا۔
’فارمر فرسٹ اپروچ ہی مستقبل ہے‘—انکر اگروال
کرشٹل کروپ پروٹیکشن لمیٹیڈ کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر مسٹر انکر اگروال نے کہا کہ زراعت کی کامیابی کا محور صرف اور صرف کسان ہے۔ انہوں نے زرعی کیمیکلز کو منفی تاثر سے نکال کر ’’پلانٹ میڈیسن‘‘ کے طور پر تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ درست استعمال کی صورت میں یہ اجناس پیداوار اور فوڈ سکیورٹی کیلئے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت اور صنعت کے اشتراک سے عالمی معیار کی ٹیکنالوجی مراکز کی تشکیل، محفوظ باقیاتی نظام (Residue-Safe System)، ڈیٹا پروٹیکشن، اور ’’میک ان انڈیا‘‘ کے تحت تحقیق اور جدت کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔
زرعی نظام میں مزید جدت کی ضرورت—ڈاکٹر آر جی اگروال
پی ایچ ڈی سی سی آئی ایگری بزنس کمیٹی کے چیئر ڈاکٹر آر جی اگروال نے بھارت کے زرعی نظام میں موجود خلا اور مواقع پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ: موجودہ زرعی ایکسٹینشن نظام ملک کے 14 کروڑ کسانوں تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ پا رہا۔ بھارت کے پاس صرف 349 زرعی مصنوعات کی رجسٹریشن موجود ہے، جب کہ عالمی سطح پر یہ تعداد 1200 سے زائد ہے۔ جعلی زرعی مصنوعات، کمزور معیار اور تحقیق کے کم تناسب نے زرعی جدت میں رکاوٹ پیدا کی ہے۔ انہوں نے لوجسٹکس، زرعی مارکیٹ اصلاحات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور بہتر سپلائی چین کے ذریعے بھارت کی زرعی برآمدات کو اگلے تین برسوں میں 50 ارب ڈالر سے بڑھا کر 100 ارب ڈالر کرنے کا لائحہ عمل پیش کیا۔
اجلاس کا اختتامی پیغام: شراکت داری، جدت اور مضبوط عزم
سمٹ کے اختتام پر مقررین اور شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ: ’’یہ سفر یہاں ختم نہیں ہوتا، اصل مقصد اب ان تجاویز کو عمل میں لانا ہے۔‘‘ اجلاس کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ بھارت کی زرعی ترقی صرف ٹیکنالوجی اور سرمایہ سے نہیں بلکہ وژن، تعاون اور کسان مراکز حکمت عملی سے ممکن ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
دوسری جانب ون ڈے سیریز میں بھارت کو سخت ٹکر دینے کے بعد ویسٹ انڈیز…
روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…
نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…
راجدھانی دہلی میں مہاکوی گوپال داس نیرج کی یاد میں ’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام…
دہلی کے ماولنکر ہال میں منعقد پینٹنگ نمائش ’ڈسکور دی پاور آف ایکسپریشن‘ میں بھارت…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک، مہاکوی گوپال داس نیرج فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور سونوی ایونٹس ممبئی…