قومی

Bhatwari Landsliding: جوشی مٹھ، رودرپریاگ کے بعد اب اترکاشی کا بھٹواڑی گاؤں لینڈ سلائیڈنگ کی لپیٹ میں

Bhatwari Landsliding: جوشی مٹھ، رودرپریاگ کے بعد اب اتراکھنڈ کے اترکاشی کا ایک گاؤں بھی لینڈ سلائیڈنگ کے مسئلے سے دوچار ہے۔ یہ لینڈ سلائیڈنگ پچھلے 12 سالوں سے مسلسل ہو رہی ہے۔ ریاست کے کئی گاؤں ایسے ہیں جہاں جوشی مٹھ جیسے حالات دیکھے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ انہیں بھی نقل مکانی کا شکارہونا پڑ سکتا ہے۔

بھٹواڑی کا اصل گاؤں، جو اترکاشی کا تحصیل ہیڈکوارٹر ہے، پچھلے 12 سالوں سے لینڈ سلائیڈنگ کی لپیٹ میں ہے۔ گاؤں کی ہر رہائشی عمارت میں بڑی بڑی دراڑیں پڑی ہوئی ہیں۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ وہ ہر سال دراڑوں کی مرمت کراتے ہیں لیکن سال بہ سال دراڑیں بڑھتی جارہی ہیں۔ بھٹواڑی کی حالت بھی جوشی مٹھ جیسی ہے۔ لیکن 12 سال گزرنے کے بعد بھی انتظامیہ گاؤں والوں کی نقل مکانی کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

2010 میں 49 عمارتیں ہوئیں تھیں زمیں دوز

واضح رہے کہ سال 2010 میں بھٹواڑی گاؤں میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے 49 رہائشی عمارتیں زمیں دوز ہوگئی تھیں۔ اس کے علاوہ گنگوتری نیشنل ہائی وے کا ایک حصہ دریا میں ڈوب گیا۔ انتظامیہ نے 50 خاندانوں کو جل ودیوت نگم کی کالونی میں منتقل کیا تھا، جو اب بھی وہیں رہ رہے ہیں۔ 2010 سے مسلسل لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے اب گاؤں کے تمام گھر لینڈ سلائیڈنگ کی لپیٹ میں ہیں۔ گاؤں میں اب بھی تقریباً 150 خاندان رہ رہے ہیں۔

ان دیہاتیوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں بھی محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔ دوسری جانب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 49 خاندانوں کی نقل مکانی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ دیگر مکانات کے لیے جیولوجیکل سروے کے بعد ہی کارروائی کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں- Joshimath Landslide: جوشی مٹھ میں ہوٹل ملاری ان اور ہوٹل ماؤنٹ ویو کو لینڈسلائیڈنگ کی وجہ سے مسمار کرنے کا عمل جاری

لینڈسلائیڈنگ کے ساتھ زلزلہ کا بھی ہے خطرہ

بھٹواڑی نہ صرف لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے دوچار ہے بلکہ زون پانچ میں ہونے کی وجہ سے زلزلوں کا بھی خطرہ ہے۔ دراڑوں سے خستہ حال عمارتیں ہلکے زلزلے سے ہی زمیں دوز ہو سکتی ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ تقریباً 10 سال سے راتوں میں جاگ  رہے ہیں۔

بھٹواڑی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہے۔ جس کا ہیڈ کوارٹر بھی بھٹواڑی میں ہے۔ لیکن 2010 سے مذکورہ تحصیل کو بھی ضلعی ہیڈ کوارٹر سے چلایا جا رہا ہے۔ ایس ڈی ایم بھٹواڑی کا دفتر ضلع مجسٹریٹ کے دفتر کے احاطے کے قریب کام کرتا ہے۔ جبکہ مقامی عوامی نمائندوں کے ساتھ ساتھ علاقہ مکین بھی عرصہ دراز سے تحصیل بھٹواڑی میں آپریشن کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ایس ڈی ایم بھٹواڑی سی ایس چوہان نے بتایا کہ گاؤں کے 49 خاندانوں کے نقل مکانی کا عمل جاری ہے۔ ان متاثرین کو 2 لاکھ روپے کی پہلی قسط بھی دی گئی ہے۔

-بھارت ایکسپریس

Mohd Sameer

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

1 hour ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

3 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

3 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

4 hours ago