نئی دہلی: ہندوستانی فوج کے سرونگ آفیسرکرنل طاہرمصطفیٰ کوجامعہ ہمدرد کے نئے رجسٹرارکے طورپرمقررکیا گیا ہے۔ جامعہ ہمدرد میں ان کی تقرری کوملک کی خدمت، انتظامی مہارت اورتعلیمی تبدیلی کی اہمیت کویکجا کرنے میں ایک جرات مندانہ قدم قراردیا جارہا ہے۔ کرنل طاہرمصطفیٰ نے مختلف سرکاری شعبوں میں کام کیا ہے۔ ان کے کیریئرمیں ڈائریکٹر(ٹریننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن)، ایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل ملٹری سروے، ڈائریکٹر، انٹرنیشنل باؤنڈری ڈائریکٹوریٹ، سروے آف انڈیا اوروزارت خارجہ میں بارڈرسیل کے ہیڈ کے طورپرکام شامل ہے۔ اس کے علاوہ، کرنل طاہرکے پاس وزارتی کوآرڈی نیشن، بین الاقوامی مذاکرات، سرحدی معاملات اورمرکزاورریاست دونوں سطح پراعلیٰ ایجنسیوں کے ساتھ کام کرنے کا بہترین تجربہ ہے۔
کون ہیں کرنل طاہر مصطفیٰ؟
کرنل طاہرمصطفیٰ ایک تجربہ کار منتظم اور ہندوستانی مسلح افواج کے ایک باصلاحیت افسر کے طور پر بڑے پیمانے پر جانے جاتے ہیں۔ وہ اپنی ایمانداری، قیادت اورانتظامی صلاحیتوں کے لیے مشہور ہیں اور انہوں نے حکومت ہند میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہ کر خدمات انجام دی ہیں۔ حال ہی میں، انہوں نے وزارت دفاع (آرمی)، حکومت ہند کے آئی ایچ کیو میں سینٹر فار آٹومیٹڈ ملٹری سروے (سی اے ایم ایس) میں ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ بین الاقوامی سرحدی ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر اور وزارت خارجہ (ایم ای اے) میں باؤنڈری سیل کے سربراہ کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ اس سے قبل، وہ اے ڈی جی ملٹری سروے، نئی دہلی میں ڈائریکٹر (ایڈمنسٹریشن اینڈ ٹریننگ) اور بہار جیو اسپیشل سینٹر، پٹنہ کے ڈائریکٹر تھے۔ ان کے ابتدائی اسائنمنٹس میں ہند-نیپال سرحد پر سروے فیلڈ انچارج اور سکم میں مشرقی سرحد پر ٹاسک فورس کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دینا شامل ہے۔ انہوں نے مرکزی، ریاستی اور نیم فوجی دستوں کی اعلیٰ ایجنسیوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر کام کیا ہے۔ ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں، کرنل طاہرمصطفیٰ کو2007 میں ہندوستان کے سابق چیف آف آرمی اسٹاف، جنرل وی کے سنگھ کی جانب سے سکم میں ٹاسک فورس کمانڈرکے طورپران کے مثالی کام پرتوصیفی سند سے نوازا گیا۔ تعلیمی لحاظ سے، انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے سول انجینئرنگ میں بی ٹیک، مدراس یونیورسٹی سے جغرافیہ میں ایم ایس سی کی ڈگریاں حاصل کی ہیں، اور انہوں نے اسٹریٹجک اہمیت کے مختلف بنیادی اور ایڈوانس کورسز مکمل کیے ہیں۔
جامعہ ہمدرد میں کیا ہے پورا ماحول؟
ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے میں کرنل طاہرمصطفیٰ کی تقرری اس بڑھتی ہوئی ضرورت کی عکاسی کرتی ہے کہ تعلیمی قیادت کوانتظامی مہارت اوراخلاقیات دونوں کوشامل کرنا چاہئے۔ ہمدرد کمیونٹی، فیکلٹی، طلباء، ریسرچرس اوراسٹاف نے ان کی تقرری کا مثبت اندازمیں خیرمقدم کیا ہے۔ کئی لوگ اسے یونیورسٹی کے لیے ایک متاثرکن موقع کے طورپردیکھ رہے ہیں کہ وہ مہارت، جامعیت اورملکی خدمت کے بنیادی وژن کے ساتھ اپنے آپ کودوبارہ جوڑسکیں۔
کرنل طاہرمصطفی کی صلاحیتوں کا کیا ہوگا فائدہ؟
قابل ذکربات یہ ہے کہ کرنل طاہرمصطفی کا قائدانہ فلسفہ قومی تعلیمی پالیسی (نیشنل ایجوکیشن پالیسی) کے اہداف کے ساتھ بغیرکسی رکاوٹ کے ہم آہنگ ہے، جوآبجیکٹ پرمبنی تعلیم وتدریس، مہارت کے انضمام اورادارہ جاتی خود مختاری پرزوردیتا ہے۔ مختلف شعبوں جیسے سرکاری، تعلیمی، بین الاقوامی اورکارپوریٹ میں شراکت داری قائم کرنے کی ان کی صلاحیت سے جدت، تعلیم اورتحقیق کی نئی جہتیں کھلنے کی امید ہے۔
جامعہ ہمدرد کوکئی ادارہ جاتی چیلنجزکا سامنا
ایک سینئرفیکلٹی ممبرنے کہا، ’’ان کی زندگی صرف ایک کیرئیرنہیں ہے، یہ ایک مشن ہے، جوہمیں متاثرکرتا ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کسی بھی یونیورسٹی میں ہمت، شفافیت اورخدمت اتنی ہی اہم ہے، جتنی کسی بھی مشن کے لئے ضروری ہے۔‘‘ یونیورسٹی نے وزارت دفاع (رکشا منترالیہ) اورہندوستانی فوج کا بھی شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے مقصد کے لیے ایسے قابل افسرکوتعینات کیا۔ ایسے وقت میں جب جامعہ ہمدرد کوکئی ادارہ جاتی چیلنجزکا سامنا ہے، ایسے متوازن خیالات اورتجربے کے ساتھ عہدے پر فائزسرونگ افسرکی موجودگی کوگیم چینجرکے طورپردیکھا جا رہا ہے۔ ان کا غیرجانبدارانہ نقطہ نظر، انتظامی ذہانت اورتنازعات کے حل کی مہارت انہیں یونیورسٹی کواستحکام، بہتری اوربین الاقوامی شہرت کی طرف لے جانے کے قابل بناتی ہے۔ یہ تقرری محض طریقہ کارنہیں بلکہ تبدیلی ہے۔ یہ ہرطالب علم، اسکالراوراسٹیک ہولڈرسے کہہ رہی ہے کہ اس سے فائدہ اٹھائیں، اجتماعی طورپرکام کریں اورعلم، خدمت اورقومی فخرکی روشنی کے طورپریونیورسٹی کی شناخت کودوبارہ قائم کریں۔
میڈیکل کی 199 سیٹوں پر کیوں نہیں ہوگا داخلہ؟
نیٹ یوجی کاؤنسلنگ 2025 شروع ہوگئی ہے۔ اس درمیان جامعہ ہمدرد یونیورسٹی نے ایم بی بی ایس اورپی جی کی کل 199 سیٹوں پرداخلہ نہ دینے کا فیصلہ لیا ہے۔ اس میں ایم بی بی ایس کی 150 اورپی جی کی 49 سیٹیں ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے میڈیکل کالج میں پرائیویٹ پارٹی کے کنٹرول کو وجہ بتاتے ہوئے اس سال داخلہ نہ دینے کا فیصلہ لیا ہے۔ وہیں اس معاملے میں دوسرے فریق نے بھی بیان جاری کرکے یونیورسٹی انتظامیہ پرکئی الزام لگائے ہیں۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ جسے پرائیویٹ پارٹی کا کنٹرول بتایا جا رہا ہے، وہ فیملی کا حصہ ہے۔ آپ کوبتادیں کہ سال 2012 میں جامعہ ہمدرد یونیورسٹی کی صحت کی خدمات کووسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی سلسلے میں ہمدرد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزاینڈ ریسرچ (ایچ آئی ایم ایس آر) قائم کیا گیا۔ تعلیمی سیشن 2025-26 کے لیے ایچ آئی ایم ایس آرکی ایم بی بی ایس اورپی جی سیٹیں صفردکھائی گئی ہیں۔ اس طرح سے 26-2025 سیشن میں ہمدرد یونیورسٹی میں میڈیکل کورسیزمیں داخلہ نہیں ملے گا۔ رجسٹرار نے خط میں کہا تھا کہ ایچ آئی ایم ایس آر میں پرائیویٹ پارٹی کے کنٹرول کی وجہ سے یونیورسٹی ایچ آئی ایم ایس آر میں داخلہ اورآن لائن پورٹل پراپنا کنٹرول رکھنے میں نا اہل ہے۔ رجسٹرار نے خط میں میڈیکل کالج میں پرائیویٹ پارٹی کا کنٹرول بتاتے ہوئے ایم بی بی ایس اورپی جی کی نشستوں سے الحاق ختم کرنے کی مجبوری کا حوالہ دیا تھا۔
دہلی ہائی کورٹ نے داخلے سے متعلق دیا تھا یہ حکم
جامعہ ہمدرد نے اس سال ایم بی بی ایس اورپی جی کورسیزمیں داخلہ کے لئے رجسٹریشن عمل نہ شروع ہونے سے متعلق دہلی ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا۔ ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اس معاملے میں سماعت کے بعد 21 جولائی کوحکم جاری کئے گئے ہیں۔ اس ملک میں ایڈیشنل سالسٹرجنرل اوروزارت صحت کے بیان درج ہیں۔ قانونی پیچیدگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے حکم میں کہا گیا ہے کہ اس سال ایم بی بی ایس اورپی جی سیٹوں پرداخلہ نہیں دیا جائے گا۔
ایچ آئی ایم ایس آرپر813 کروڑ روپئے کی ہیراپھیری کا الزام
سی اے جی کے آڈٹ رپورٹ میں ہمدرد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزاینڈ ریسرچ (ایچ آئی ایم ایس آر) اوراس سے منسلک اسپتال کے لئے مقررہ 813 کروڑ روپئے کے بجٹ کی ہیرا پھیری سامنے آئی ہے۔ سی اے جی نے یہ آڈٹ 2011 سے 2023 کے درمیان کیا تھا۔ الزام ہے کہ یہ پیسہ یوجی سی کے ضوابط کے خلاف ہمدرد ایجوکیشن سوسائٹی کودیا گیا، جسے آڈٹ میں ادارہ جاتی وسائل کے غلط استعمال کی اطلاع ملی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سیوا تیرتھ میں وزرا کے لیے چنتن شِور شروع کیا…