قومی

بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے ذریعہ مسلم خاتون ڈاکٹر کا حجاب کھینچنے پر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے سرزنش کی

نئی دہلی: پیوپلس اویرنس فورم کے صدراورایڈوکیٹ سپریم کورٹ زیڈ کے فیضان نے بہارکے وزیراعلیٰ نتیش کمارکے ذریعہ ایک مسلم خاتون ڈاکٹرکے چہرے سے نقاب کھینچنے پراپنے سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ نتیش کمار کی خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ انھیں اپنے اس عمل پرکوئی پشیمانی نہیں ہے اور انہوں نے جان بوجھ کراس جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ ورنہ وہ اب تک سامنے آکر معافی مانگ چکے ہوتے ۔ انھوں نے کہا کہ میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ ایک سیکولر ذہن کے شخص تھے مگر اقتدار کی ہوس میں اب وہ بالکل بھارتیہ جنتا پارٹی کے رنگ میں رنگ چکے ہیں اورہندوتوا کی راہ پرگامزن ہیں۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں شاید ان کے لئے سیاسی طور پر یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنا نمبربڑھانے کے لئے اس طرح کا کام کریں۔

انھوں نے کہا کہ میں تو کہوں گا کہ ابھی بھی وقت ہے کہ وہ سامنے آکر نہ صرف متاثرہ ڈاکٹر بلکہ پورے ملک سے معافی مانگیں اوراپنے اس عمل کی وضاحت کریں۔ انہوں نے کہا کہ نتیش کمارکا یہ عمل نہ صرف امتیازی، غیر اخلاقی ،شرمناک اور قابل مذمت ہے بلکہ ایک کریمنل ایکٹ ہے اورواضح طورپرفوجداری قوانین کی زد میں آتا ہے۔ لہذا جن لوگوں نے اس کے خلاف کمپلینٹ درج کرائی ہے میں انھیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید کرتا ہوں کہ وہ ڈٹ کر اس کی پیروی بھی کریں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کے حالات سے نپٹنے کا یہ ایک مؤثر طریقہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ میری رائے میں متاثرہ ڈاکٹرکوسروس سے گریزکرنے کے بجاۓ اسے جواین کرنا چاہیے نہیں توان فرقہ پرست طاقتوں کوتقویت ملے گی، جوچاہتے ہیں کہ مسلمان سرکاری سروسزمیں نہ آئیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ جرأت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرخاتون ڈاکٹراگرخود بھی وزیراعلیٰ کے خلاف ایف آئی آردرج کرا سکے توبہترہوگا، کیونکہ براہ راست ایف آئی آرزیادہ متاثرثابت ہوگی۔
ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے مزید کہا کہ یہ فرقہ پرستی کی انتہا ہے کہ اس گھناؤنے عمل پربھی بہت سارے لوگ اس کو ہندو مسلم چشمے سے دیکھتے ہوئے اس کی حمایت کر وزیراعلیٰ کے اس عمل کودرست ٹھہرا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جہاں ایک طرف بی جے پی اوراس کی حلیف جماعتیں اس کی خاموش حمایت کر رہی ہیں تو وہیں دوسری طرف ان کے لیڈران ایک قدم اورآگے بڑھ کرانتہائی گھٹیا بیانات دے رہے ہیں۔ انھوں نے خاص طورپرگری راج سنگھ اورسنجے نشاد کے بیانات کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی گھٹیا بتایا اور کہا کہ ان کے بیانات بھی پوری طرح ضابطہ فوجداری کی گرفت میں آتے ہیں اوران کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرانی چاہیے ۔ انھوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سنجیدہ اور حساس معاملے میں بھی خواتین کمیشن خاموش ہے اور یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت نے کس طرح آزاد سرکاری اداروں کو بھی پوری طرح اپنی گرفت میں کر رکھا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ بہرحال خوش آئند بات یہ ہے کہ سماجی فرنٹ پرکام کرنے والی تنظیمیں اس مسلے پر سرگرم ہیں اور بھر پور ڈھنگ سے آواز بلند کر رہی ہیں ۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Kiren Rijiju Targets Rahul Gandhi: ’اب ڈرامہ بند کیجیے…‘، کرن رجیجو کا راہل گاندھی پر سخت حملہ، پی ایم مودی سے سیکھنے کا مشورہ

راہل گاندھی کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے رجیجو نے کہا کہ انہیں وزیر اعظم…

22 minutes ago

Adani Swirl Transit Hotel: نوی ممبئی ایئرپورٹ پر اڈانی گروپ نے شروع کیا Swirl ٹرانزٹ ہوٹل، اب ایئرپورٹ کے اندر ہی آرام اور کام کی سہولت

ملک کی سب سے بڑی نجی ایئرپورٹ آپریٹر کمپنی اڈانی ایئرپورٹس ہولڈنگز لمیٹڈ (AAHL) نے…

54 minutes ago

Eknath Shinde met PM Modi: وزیر اعظم مودی سے ملے ایکناتھ شندے، خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کے لیے مرکز سے بڑی مالی مدد کی امید

مہاراشٹر میں خشک سالی کی سنگین صورتحال پر تقریباً ایک گھنٹے تک ہوئی بات چیت،…

2 hours ago

Singer Sunita Rao Story: سونیتا راؤ نے 90 کی دہائی کے ہٹ گانے کا سنایا قصہ، کہا- ’’غلط سنگر کو دیا گیا تھا کریڈٹ‘‘

فلم ’کھلاڑیوں کا کھلاڑی‘ میں ریوینا ٹنڈن کے علاوہ سابق ڈبلیو ڈبلیو ایف، جو اب…

2 hours ago