Advocate Z K Faizan raised questions on AIMPB: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی کارکردگی اور افادیت پر بڑا سوال، سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے بتایا بے اثرتنظیم

نئی دہلی: پیوپلس اویرنس فورم کے صدراورایڈوکیٹ سپریم کورٹ زیڈ کے فیضان نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی کارکردگی اوراس کی افادیت پرسوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آج کی تاریخ میں مسلم پرسنل لاء بورڈ ایک بے عمل اور بےاثرتنظیم ہوکررہ گئی ہے اوراپنی معنویت کھوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرسنل لاء بورڈ جس سیاسی پس منظرمیں اورجن مقاصد کے حصول کے لئے بنا تھا، اس سے عملی شکل میں منحرف ہوتا نظرآرہا ہے۔ علمائے کرام کے چند گھسے پٹے چہرے، جوبورڈ پرقابض ہیں، باتیں توبڑی بڑی کرتے ہیں، بیانات بھی زورداردیتے ہیں، مگرعملی اقدامات سے خائف اورکوسوں دورکھڑے نظرآتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انھیں یاد رکھنا چاہئے کہ بات تبھی سنی جاتی ہے، جب ارباب حل وعقد کویہ پتہ ہوتا ہے کہ اگرآپ کی بات نہ مانی گئی توآپ کچھ کربھی سکتے ہیں۔ یہاں صورت حال بالکل مختلف ہے، حکومت کوپتہ ہے کہ اگرہم اجازت نہیں دیں گے تویہ احتجاج تک نہیں کرسکتے، توپھرآپ کی کون سنے گا۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں پرمظالم کی انتہا ہوگئی ہے۔ مساجد، خانقاہیں، درگاہیں، مزارات بلڈوزکئے جا رہے ہیں۔ چھتوں اورگھروں تک میں نماز پڑھنے سے روکا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پربیانات دینے والے ممبران کے رویے پرسوال

ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے کہا کہ ملک میں اذان دینے پرپابندی لگائی جا رہی ہے اورکلام پاک کی بے حرمتی کی جا رہی ہے۔ محمد کہنے پرجیل میں ڈال دیا جا رہا ہے، داڑھی اورلباس دیکھ کرگولی ماردی جا رہی ہے، پرصورتحال یہ ہے کہ ہمارے علمائے کرام دھرنا اوراحتجاج بھی تبھی کریں گے، جب اس کی اجازت ملے گی۔ مجھے توحیرت اورافسوس یہ ہے کہ بڑے بڑے دعوے کرنے کے باوجود 17 ستمبرکوجنترمنترپر، اجازت نہ ملنے کی وجہ سے، دھرنا دینے کی اجازت نہ ملنے پربجائے ناکامی کا اعتراف اورشرمندگی کا احساس کرنے کے بورڈ کے کچھ ممبرعلمائے کرام اس طرح سوشل میڈیا پربیانات دے رہے ہیں، جیسے کوئی میدان جیت لیا ہو۔

مسلم پرسنل لا بورڈ کی موجودہ قیادت پرناکام ہونے کا الزام

زیڈ کے فیضان نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی موجودہ اولڈ قیادت ناکام ہوچکی ہے اوراب اس کی باگ ڈور’مسلم جین زی’ کے ہاتھوں میں سونپ دینی چاہئے کیونکہ جمہوریت میں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے سڑکوں پر اترنے اورجیل جانے کا سبق یاد رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے، جوہمارے موجودہ جید علماء کرام بالکل بھول چکے ہیں۔ بس انھیں یاد ہے تواپنے آبا واجداد کی عظیم قربانیاں جس کا وہ باربارحوالہ دے کراپنے آپ کومطمئن کرلیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کسی بھی جمہوری نظام میں احتجاج ایک بنیادی حق ہوتا ہے اورہمارے ملک کا آئین بھی ہمیں اس بات کی مکمل اورواضح اجازت دیتا ہے اوراگرسرکارکوئی حکم نامہ اس کے برعکس جاری کرہمیں روکتی ہے تو پھراس کی حکم عدولی ضروری ہوجاتی ہے اورجیل جانے کے لئے تیاررہنا پڑتا ہے اوریہ کام ہمارے ‘جین زی’ ہی کرسکتے ہیں، یہ ہماری موجودہ قیادت کے بس کی بات نہیں۔ اس لئے بدلے ہوئے سیاسی منظرنامے میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کی قیادت بھی نیی نسل کے ہاتھوں میں سونپ دینا بہترہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Bhutan dedicates sacred stupa to Modi: بھوٹان نے وزیر اعظم مودی کو دیا خصوصی اعزاز، 108 بدھ اسٹوپوں میں سے 76واں اسٹوپا مودی کے نام سے منسوب

بدھ مذہب میں اسٹوپوں کو خصوصی مقام حاصل ہے۔ انہیں صرف مذہبی یادگار نہیں سمجھا…

10 minutes ago

Union Home Minister Amit Shah: امت شاہ سمیت ان لیڈروں نے انقلابی واسودیو بلونت پھڑکے کی یوم پیدائش پر پیش کیا خراج عقیدت

امت شاہ نے کہ پھڑکے کے لیے ملک کی آزادی اور ہندوستانیوں کے وقار کے…

49 minutes ago

GRAP 2 restrictions in Delhi: دہلی-این سی آر میں فضائی آلودگی میں اضافہ، گریپ-2 نافذ،  جانئے کیا ہے گریپ اور اسے کیوں نافذ کیا جاتا ہے؟

گریپ کا چوتھا مرحلہ آلودگی کی انتہائی سنگین صورت حال میں نافذ کیا جاتا ہے۔…

2 hours ago

Democrats Win Majority in the Senate: سینیٹ میں ڈیمو کریٹس کو ملی اکثریت ، ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ملی شرم ناک شکست

ٹرمپ کی جانب سے منتخب کیے گئے ریپبلکن امیدواروں کو ٹیکساس اور ساؤتھ کیرولائنا میں…

2 hours ago