بھارت میں آٹوموٹو لاجسٹکس کے نقشے کو بدلنے کی سمت ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے موتھر سن نے اپنی مشترکہ کمپنی ساموردھنا موتھر سن ہماکیوریکس انجینئرڈ لاجسٹکس لمیٹڈ (SAMRX) کے ذریعے جمعہ کو اعلان کیا کہ اس نے اڈانی پورٹس کی معاون کمپنی دھیگی پورٹ لمیٹڈ (DPL) کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت مہاراشٹر کے دھیگی پورٹ پر گاڑیوں کی برآمدات کے لیے ایک خصوصی اور جدید سہولت قائم کی جائے گی۔ APSEZ کے 15 اسٹریٹجک پورٹس میں شامل دھیگی پورٹ، ‘میک اِن انڈیا’ کے تحت بھارت کی آٹوموٹو صنعت کے بڑھتے ہوئے کردار کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی صلاحیتوں میں مزید توسیع کر رہا ہے۔ اس سے گاڑیوں کی درآمد و برآمد نہایت آسان اور تیز رفتار ہو جائے گی، جس کا براہِ راست فائدہ عالمی مارکیٹوں تک پہنچنے میں ہوگا۔
اڈانی پورٹس کے سی ای او اور وہول ٹائم ڈائریکٹر اشونی گپتا نے کہا کہ: “APSEZ کے مربوط انفراسٹرکچر کو موتھر سن کی مہارت کے ساتھ ملا کر ہم پورے ملک میں گاڑیوں کی نقل و حرکت کے لیے ایک مضبوط اور بغیر رکاوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں۔ دھیگی میں بنایا جانے والا یہ RoRo (رول آن، رول آف) ٹرمینل تجارت کو تیز تر کرے گا، سپلائی چین کی کارکردگی میں اضافہ کرے گا اور یوزر و مقامی کمیونٹیز دونوں کے لیے طویل مدتی فائدہ فراہم کرے گا۔”
کمپنی کے مطابق یہ شراکت دھیگی پورٹ کو ممبئی سے پونے آٹو بیلٹ کے درمیان گاڑیوں کے برآمد کنندگان کا نیا مرکز بنا دے گی۔ موتھر سن گروپ کے وائس چیئرمین لکش وامن سہگل نے اسے آٹو انڈسٹری کے لیے عالمی معیار کی لاجسٹکس سہولیات مہیا کرنے کے مشن میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا:“دھیگی پورٹ پر RoRo ٹرمینل تیار کر کے ہم اپنی سروس رینج میں اضافہ کر رہے ہیں اور ایک اسٹریٹجک اثاثہ تشکیل دے رہے ہیں جو ہمارے OEM شراکت داروں کے لیے لاگت کم کرے گا اور کارکردگی بڑھائے گا۔”
نیا RoRo ٹرمینل فنشڈ وہیکل (FV) لاجسٹکس کے لیے جدید ترین سہولیات سے آراستہ ہوگا، جس سے بڑے آٹوموٹو OEMs کی سپلائی چین آسان اور مؤثر ہو جائے گی۔SAMRX اس ٹرمینل میں سرمایہ کاری کر کے اپنی سروسز کو عمودی طور پر مربوط کرے گا اور کسٹمرز کو 360 ڈگری کارگو وِزِبیلٹی فراہم کرے گا۔
دھیگی پورٹ مہاراشٹر کے صنعتی علاقوں کے لیے گیٹ وے کے طور پر کام کرتا ہے اور یہاں بند گودام، ٹینک فارم اور اوپن اسٹاک یارڈز جیسی سہولیات موجود ہیں۔ فی الحال APSEZ کی کارگو ہینڈلنگ کی صلاحیت 633 ملین ٹن سالانہ ہے، جو ملک کے مجموعی پورٹ والیوم کا تقریباً 28 فیصد ہے۔ کمپنی کا ہدف ہے کہ 2030 تک ایک ارب ٹن کارگو ہینڈلنگ تک پہنچا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو
SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ…
کوہلی ورلڈ کپ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں…
جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…
چراغ پاسوان کی ایل جے پی (رام ولاس)، اپیندر کشواہا کی آر ایل ایم اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سکھ مذہب کے تیسرے گرو، شری گرو امرداس جی…