قومی

Adani Solar: اڈانی سولر کو بڑی کامیابی، سولر ماڈیول رینکنگ میں ملا چھٹا مقام، عالمی ٹاپ 10 فہرست میں شامل ہونے والی واحد ہندوستانی کمپنی

احمد آباد: اڈانی سولر نے عالمی سطح پر ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے توانائی تحقیق اور مشاورتی ادارے ووڈ میکنزی کی ’’گلوبل سولر فوٹو وولٹائک (پی وی) ماڈیول مینوفیکچرر رینکنگ 2026‘‘ میں دنیا بھر میں چھٹا مقام حاصل کر لیا ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ اڈانی سولر عالمی ٹاپ 10 فہرست میں شامل ہونے والی واحد ہندوستانی کمپنی بن گئی ہے۔ ووڈ میکینزی نے اڈانی سولر کو ’’گریڈ اے‘‘ ریٹنگ سے نوازا ہے۔ کمپنی کو یہ درجہ مینوفیکچرنگ صلاحیت، جدید ٹیکنالوجی، مالی استحکام، سپلائی چین کی مضبوطی اور آپریشنل کارکردگی جیسے اہم پیمانوں پر شاندار کارکردگی کی بنیاد پر دیا گیا۔ کمپنی نے گزشتہ درجہ بندی میں آٹھویں مقام کے مقابلے میں دو درجے بہتری حاصل کرتے ہوئے چھٹا مقام حاصل کیا ہے۔

ہندوستانی سولر صنعت کے لیے اہم سنگ میل

یہ کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہندوستان مقامی سولر مینوفیکچرنگ صلاحیت میں تیزی سے اضافہ اور درآمدات پر انحصار کم کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ میں دنیا کی 48 سولر ماڈیول مینوفیکچرنگ کمپنیوں کا جائزہ لیا گیا، جس میں صلاحیت کے استعمال، تکنیکی پختگی، مالی کارکردگی، سپلائی چین کی مضبوطی اور آپریشنل استعداد جیسے عوامل کو شامل کیا گیا۔ اڈانی سولر اس وقت گجرات کے منڈرا میں واقع اپنی مربوط مینوفیکچرنگ یونٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 10 گیگاواٹ تک بڑھانے کے منصوبے پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔ فی الحال کمپنی کے پاس 2 گیگاواٹ اِنگاٹ اور ویفر مینوفیکچرنگ صلاحیت موجود ہے، جبکہ سولر سیل اور سولر ماڈیول کی پیداواری صلاحیت 4-4 گیگاواٹ ہے۔

ونڈ انرجی اور فروخت میں بھی نمایاں پیش رفت

اڈانی ونڈ نے بھی عالمی سطح پر اپنی موجودگی مضبوط کی ہے اور وہ بلومبرگ این ای ایف کی ’’گلوبل ٹاپ 15 ونڈ ٹربائن مینوفیکچررز‘‘ فہرست میں شامل ہونے والی واحد ہندوستانی کمپنی بن گئی ہے۔ مالی سال 2025-26 کی چوتھی سہ ماہی میں کمپنی کی گھریلو سولر ماڈیول فروخت سالانہ بنیاد پر 95 فیصد اضافے کے ساتھ 1,459 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ آزاد ادارے کیوا پی وی ای ایل کی جانب سے کیے جانے والے سولر ماڈیول قابلِ اعتمادیت کے عالمی ٹیسٹوں میں بھی کمپنی کو مسلسل اعلیٰ کارکردگی کا حامل قرار دیا جاتا رہا ہے۔ دریں اثنا، مورگن اسٹینلے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق قابلِ تجدید توانائی ہندوستان کی درمیانی مدت کی اقتصادی حکمت عملی کا ایک اہم ستون بن چکی ہے، جس کا مقصد بیرونی توانائی پر انحصار کو مستقل بنیادوں پر کم کرنا ہے۔ حکومت کی پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (PLI) اسکیموں اور کسٹم ڈیوٹی کے تحفظ کے باعث ملک میں سولر مینوفیکچرنگ کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ وزارتِ نئی و قابلِ تجدید توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2024 سے مارچ 2025 کے درمیان ہندوستان کی سولر ماڈیول مینوفیکچرنگ صلاحیت 38 گیگاواٹ سے بڑھ کر 74 گیگاواٹ ہو گئی، جبکہ سولر سیل مینوفیکچرنگ صلاحیت 9 گیگاواٹ سے بڑھ کر 25 گیگاواٹ تک پہنچ گئی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Delhi NCRWeather Update: این سی آر میں گرمی سے ملے گی معمولی راحت، لیکن بڑھتی فضائی آلودگی سے سانس کے مریضوں کو خطرہ

25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…

2 hours ago

?Will UPI and Phone Banking Work: بینک ہڑتال کا الرٹ، کیا یو پی آئی اور فون بینکنگ کی سہولیا ت جاری رہیں گی؟

پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…

3 hours ago

Azamgarh triple murder: یوپی میں  دو پجاریوں، بیوی اور بیٹے کے قاتل کا انکاؤنٹر ہلاک، اعظم گڑھ میں 8 گھنٹے بعد یرغمالی ڈرامہ ختم

وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نوین اروڑہ نے بتایا کہ پولیس نے تقریباً…

4 hours ago