نئی دہلی : اڈانی پاور لمیٹڈ نے نیوکلیئر توانائی کے شعبے میں اپنی موجودگی بڑھانے کے لیے ایک نئی مکمل ملکیت والی اسٹیپ ڈاؤن ذیلی کمپنی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے منگل کو جاری ریگولیٹری فائلنگ میں بتایا کہ اس اقدام سے مستقبل میں نیوکلیئر توانائی کے شعبے میں اس کی سرگرمیوں کو مزید وسعت ملے گی۔کمپنی کے مطابق اس کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی اڈانی ایٹامک انرجی لمیٹڈنے ایک نئی کمپنی راوت بھاٹا راج ایٹامک انرجی لمیٹڈ قائم کی ہے۔ اس نئی کمپنی کا قیام 20 اپریل 2026 کو کیا گیا، جس کا مقصد نیوکلیئر توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور توسیع ہے۔
اڈانی پاور نے اپنے بیان میں کہا کہ راوت بھاٹا راج ایٹامک انرجی لمیٹڈ کو 5 لاکھ روپے کی مجاز سرمایہ کے ساتھ قائم کیا گیا ہے، جسے 10 روپے فی شیئر کے حساب سے 50 ہزار ایکویٹی شیئرز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کمپنی نے واضح کیا کہ آر آر اے ای ایل، اڈانی ایٹامک انرجی لمیٹڈ کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے، جب کہ اڈانی ایٹامک انرجی لمیٹڈ مکمل طور پر اڈانی پاور لمیٹڈ کی ملکیت ہے۔ اس طرح یہ کمپنی گروپ کے ڈھانچے میں اسٹیپ ڈاؤن سبسڈری کے طور پر شامل ہوگی۔
اسی دوران گروپ کی ایک اور کمپنی اڈانی انرجی نے بھی کوسٹل مہا ایٹامک انرجی لمیٹڈ کے نام سے نئی مکمل ملکیتی اسٹیپ ڈاؤن ذیلی کمپنی قائم کی ہے۔ یہ کمپنی نیوکلیئر توانائی سے بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے شعبوں میں کام کرے گی۔ان پیش رفتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اڈانی گروپ نیوکلیئر توانائی کے شعبے میں اپنی دلچسپی بڑھا رہا ہے۔ یہ اقدام بھارت کے طویل مدتی صاف توانائی کے اہداف کے مطابق بھی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق اس وقت بھارت میں نیوکلیئر توانائی کی مجموعی صلاحیت تقریباً 8.7 گیگاواٹ ہے، جب کہ حکومت نے 2047 تک اسے بڑھا کر 100 گیگاواٹ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی دلچسپی سے ملک میں صاف توانائی کے اہداف کو حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
آر سی بی کے ساتھ شاندار سیزن گزارنے کے بعد گریس ہیرس یوپی واریئرز میں…
شیفالی ورما نے محض 26 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کرکے بھارتی خواتین ون…
دسمبر 2030 تک نیا ٹرمینل تیار کرنے کا منصوبہ، سالانہ 2 کروڑ مسافروں کو سنبھالنے…
وکلا کے ایک گروپ نے جسٹس اجے بھنوٹ کی عدالت میں ہنگامہ آرائی کی اور…
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبا کا احتجاج 17ویں روز بھی جاری رہا۔ کیمپس کے قرب…
انڈمان و نکوبار جزائر کی انتظامیہ نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ مرکز کے زیر…