قومی

Adani Ports Unveils First Steel Slag Road in Hazira: اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون لمیٹڈ (APSEZ) نے ہزیرا میں ایک نجی بندرگاہ کے اندر دنیا کی پہلی اسٹیل سلیگ روڈ کا افتتاح کیا

ماحول دوست اختراع کی جانب اہم پیش رفت میں اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون لمیٹڈ (APSEZ) نے سورت کے ہزیرا پورٹ میں دنیا کی پہلی اسٹیل سلیگ سڑک کا افتتاح کیا، جو کسی بھی نجی بندرگاہ کے احاطے میں تعمیر ہونے والی اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہے۔ اس تاریخی اقدام سے بھارت اور APSEZ کو پائیدار اور سرکلر اکانومی پر مبنی میری ٹائم انفرااسٹرکچر کے عالمی منظرنامے میں نمایاں مقام حاصل ہوا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی، پائیدار ترقی

1.1 کلومیٹر طویل یہ سڑک ہزیرا بندرگاہ کے ملٹی پرپز برتھ (MPB-1) کو کول یارڈ سے جوڑتی ہے، جو بندرگاہ کے اندر نقل و حمل کا ایک اہم راستہ فراہم کرتی ہے۔ اس سڑک کی تعمیر میں پراسیسڈ اسٹیل سلیگ ایگریگیٹس کا استعمال کیا گیا ہے، جو اسٹیل مینوفیکچرنگ کا ایک صنعتی ضمنی پیداوار ہے۔ یہ طریقہ کار نہ صرف فضلے کے مؤثر استعمال کی بہترین مثال ہے بلکہ سرکلر اکانومی کے اصولوں کو عملی جامہ پہنانے میں بھی معاون ہے۔

مضبوط، دیرپا، کم لاگت

CSIR-CRRI کی رہنمائی میں تیار کردہ لچکدار سڑک ڈیزائن نے نہ صرف بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے بلکہ سڑک کی عمر کو بھی طویل بنایا ہے۔ اس ماڈل سے تعمیراتی لاگت میں کمی اور ماحولیاتی اثرات میں نمایاں کمی بھی ممکن ہوئی ہے۔

سائنسی اشتراک اور حکومتی تعاون

یہ منصوبہ بلک اینڈ جنرل کارگو ٹرمینل (BGCT) فیز II کی توسیع کا حصہ ہے، جو APSEZ، CSIR-CRRI، اور وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے باہمی اشتراک سے ممکن ہوا۔ افتتاحی تقریب میں نیتی آیوگ کے رکن (سائنس و ٹیکنالوجی) ڈاکٹر وجے کمار سرسوت، CSIR کی ڈائریکٹر جنرل اور DSIR کی سیکریٹری ڈاکٹر این. کلائی سیلوی، اور CSIR-CRRI کے ڈائریکٹر ڈاکٹر منورنجن پریدا موجود تھے۔

تحقیق و اختراع کا اعتراف

تقریب میں ستیش پانڈے (اسٹیل سلیگ روڈ ٹیکنالوجی کے موجد)، آنند مراٹھے (COO، اڈانی ہزیرہ پورٹ)، اور دیگر معروف سائنسدان اور ماہرین بھی شریک ہوئے، جنہوں نے اس منصوبے کی تحقیقی گہرائی اور عملی کامیابی کو اجاگر کیا۔

ویسٹ ٹو ویلتھ مشن کا عملی نمونہ

یہ سڑک نہ صرف “ویسٹ ٹو ویلتھ” مشن کی نمائندگی کرتی ہے بلکہ ماحول دوست بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے قومی سطح پر ایک رہنما ماڈل بن کر ابھری ہے۔ اڈانی پورٹس نے اس اقدام کو بھارت کے لاجسٹکس سیکٹر کی جدید کاری، صنعتی ماحولیاتی ہم آہنگی اور قومی ترقی کے اہداف سے جوڑ کر ایک دیرپا وژن پیش کیا ہے۔ یہ کامیابی اس امر کا ثبوت ہے کہ بھارت اب نہ صرف صنعتی فضلہ کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ گرین انفرااسٹرکچر کے میدان میں بھی عالمی رہنمائی کا اہل بن چکا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

6 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

7 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

7 hours ago