قومی

Adani Group Plans Rs1 Lakh Crore Investment: اڈانی گروپ کا آئندہ پانچ برسوں میں ہوائی اڈوں کے شعبے میں ایک لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا منصوبہ

اڈانی گروپ نے آئندہ پانچ برسوں میں اپنے ہوائی اڈوں کے کاروبار میں ایک لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا ایک پرعزم منصوبہ پیش کیا ہے، جو بھارت کے ہوابازی شعبے کی طویل مدتی ترقی کے امکانات پر مضبوط اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ سرمایہ کاری ہوائی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع، صلاحیت میں اضافہ اور بھارت کے سب سے بڑے نجی ہوائی اڈہ آپریٹر کے طور پر گروپ کی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے پر مرکوز ہوگی۔

بھارتی ہوابازی کا ترقیاتی راستہ  طویل مدتی اور پائیدار

اڈانی ایئرپورٹس کے ڈائریکٹر اور ارب پتی گوتم اڈانی کے چھوٹے بیٹے، جیت اڈانی نے کہا کہ گروپ کو توقع ہے کہ بھارت کی ہوابازی صنعت آئندہ ایک دہائی یا اس سے زائد عرصے تک سالانہ 15 سے 16 فیصد کی مضبوط رفتار سے ترقی کرے گی۔ نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کمرشل آپریشنز کے آغاز سے قبل گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بھارتی ہوابازی کے ترقیاتی راستے کو طویل مدتی اور پائیدار قرار دیا۔اڈانی گروپ نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو اپنی توسیعی حکمتِ عملی کا ایک اہم ستون مانتا ہے اور اس پر کمرشل آپریشنز کا آغاز 25 دسمبر سے کیا جائے گا۔نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ (NMIAL)، جس میں اڈانی گروپ کی 74 فیصد حصے داری ہے، اس ہوائی اڈے کی توسیع کر رہا ہے۔ 19,650 کروڑ روپے کی ابتدائی لاگت سے تعمیر ہونے والے اس ہوائی اڈے کے پہلے مرحلے میں سالانہ 20 ملین مسافروں کو سنبھالنے کی صلاحیت ہوگی۔وقت کے ساتھ اس ہوائی اڈے کی گنجائش بڑھا کر 90 ملین مسافروں تک کر دی جائے گی، جس سے ممبئی کے موجودہ چھترپتی شیواجی مہاراج انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دباؤ کم ہوگا اور علاقائی فضائی ٹریفک کی طویل مدتی ترقی کو سہارا ملے گا۔

ہوائی اڈوں کے پورٹ فولیو میں توسیع

ممبئی کے دو ہوائی اڈوں کے علاوہ، اڈانی گروپ اس وقت ملک بھر میں چھ دیگر ہوائی اڈے بھی چلا رہا ہے، جن میں احمد آباد، لکھنؤ، گوہاٹی، ترواننت پورم، جے پور اور منگلورو شامل ہیں۔اس پورٹ فولیو میں بڑے میٹرو حب اور علاقائی ہوائی اڈوں کا امتزاج شامل ہے، جو بھارتی ہوابازی کے منظرنامے میں گروپ کو نمایاں موجودگی فراہم کرتا ہے۔ جیت اڈانی نے کہا کہ آئندہ ہوائی اڈوں کی نجکاری کے مرحلے میں گروپ نہایت جارحانہ انداز میں بولی لگائے گا، جس میں 11 ہوائی اڈوں کے شامل ہونے کی توقع ہے۔شہری ہوابازی کی وزارت نے ان ہوائی اڈوں کی نشاندہی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت آپریشن کے لیے کی ہے، جبکہ نیشنل مونیٹائزیشن پائپ لائن کے تحت 2022 سے 2025 کے درمیان ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے زیرِ انتظام 25 ہوائی اڈوں کو لیز پر دینے کا منصوبہ ہے۔چین جیسے ممالک کے مقابلے میں بھارت میں فی کس فضائی سفر کی کم شرح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اڈانی نے کہا کہ اس شعبے میں توسیع کے بے پناہ مواقع اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ممبئی ہوائی اڈہ 2016 سے صلاحیت کی پابندیوں کا شکار رہا ہے، جس کے باعث بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں دشواری پیش آئی—ایک مسئلہ جسے نوی ممبئی ہوائی اڈہ حل کرے گا۔بنیادی انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ، AAHL صلاحیت میں بہتری، مرحلہ وار توسیع اور ریٹیل و سٹی سائیڈ ڈیولپمنٹ جیسی ضمنی خدمات میں بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے، جو متنوع آمدنی کے ذرائع قائم کرنے اور بھارت کے ہوابازی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

6 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

6 hours ago