نئی دہلی :اڈانی انرجی سلوشنز لمیٹڈ نے بھارت کے سبز توانائی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے اپنے فلیگ شپ ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ ٹرانسمیشن منصوبے کے لیے جاپانی بینکوں کے کنسورشیم سے طویل مدتی مالی معاونت حاصل کر لی ہے۔ یہ منصوبہ ایک گرین انرجی ایویکیوشن کوریڈور کے طور پر شمالی بھارت میں قابل تجدید توانائی کی ترسیل کو مضبوط بنائے گا۔یہ کوریڈور راجستھان کے شمسی توانائی سے مالا مال علاقوں سے بجلی نکال کر قومی گرڈ تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، جس سے بھارت میں بڑھتی ہوئی صاف توانائی کی طلب کو سہارا ملے گا۔ منصوبہ ±800 کے وی ایچ وی ڈی سی نیٹ ورک کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے، جس کی مجموعی گنجائش 6000 میگاواٹ ہوگی۔ تقریباً 950 کلومیٹر طویل یہ لائن راجستھان کے بھڈلا کو اتر پردیش کے فتح پور سے جوڑے گی۔
2029 تک اس منصوبے کے مکمل ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد یہ کوریڈور بھارت کے لیے ایک اہم گرین ٹرانسمیشن شریان بن جائے گا۔ اس سے نہ صرف بڑے پیمانے پر قابل تجدید توانائی کو گرڈ میں شامل کرنا ممکن ہوگا بلکہ توانائی کے زیادہ استعمال والے شہری اور صنعتی مراکز کے لیے گرڈ کے استحکام میں بھی بہتری آئے گی۔یہ اثاثہ اڈانی گروپ کے مربوط صاف توانائی پلیٹ فارم کا حصہ ہے۔ راجستھان اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ کے لیے ایک اہم پیداواری مرکز ہے، جہاں سے پیدا ہونے والی صاف بجلی اڈانی انرجی سلوشنز کی ذیلی کمپنی اڈانی الیکٹریسٹی ممبئی لمیٹڈ کو فراہم کی جاتی ہے۔ اس وقت ممبئی کی بجلی سپلائی میں چالیس فیصد سے زیادہ حصہ قابل تجدید توانائی کا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے شہروں میں نمایاں مقام دیتا ہے۔
اس منصوبے کی فنانسنگ جاپانی بینکوں ایم یو ایف جی بینک اور سومی تومو میتسوئی بینکنگ کارپوریشن کی قیادت میں فراہم کی گئی ہے، جو بھارت کے قابل تجدید توانائی کے شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کی عکاس ہے۔ منصوبے میں ہٹاچی کی جدید ایچ وی ڈی سی ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے، جسے بھارت ہیوی الیکٹریکلز لمیٹڈ کے تعاون سے نافذ کیا جائے گا، یوں میک اِن انڈیا مہم کو بھی تقویت ملے گی۔اڈانی انرجی سلوشنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کندرپ پٹیل نے کہا کہ یہ منصوبہ بھارت کے گرین ٹرانسمیشن بیک بون کی تعمیر میں ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ جاپانی شراکت داروں کی مسلسل حمایت بھارت اور جاپان کے مضبوط تعلقات اور پائیدار توانائی کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔یہ مالی وسائل اڈانی انرجی سلوشنز کے سسٹین ایبل ڈیٹ فریم ورک کے تحت حاصل کیے گئے ہیں، جو عالمی ماحولیاتی اور سماجی معیارات کے مطابق ہیں، اور اس منصوبے کو گرین لون کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…
کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…
حکام کے مطابق، سڑکوں کے کئی حصے اب بھی متاثر ہیں، جس کی وجہ سے…