قومی

Acharya Pramod Krishnam Appeals For Action: بنگلہ دیش میں ہندو اقلیتوں پر ظلم ناقابل برداشت، وزیر اعظم مودی سخت قدم اٹھائیں: آچاریہ پرمود کرشنم

پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں ہندو اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور مبینہ مظالم پر اب بھارت میں آوازیں تیز ہونے لگی ہیں۔ انہی آوازوں میں ایک نمایاں آواز کلکی دھام کے پیٹھادھیشور آچاریہ پرمود کرشنم کی ہے، جنہوں نے مودی حکومت سے اس معاملے میں سخت اور فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت ایکسپریس کے نمائندے ہمانشو دوبے سے خصوصی گفتگو میں آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ بنگلہ دیش میں ہندو مندروں پر حملے، گھروں کو نذرِ آتش کرنا، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا انسانیت کو شرمندہ کرنے والا عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایک ذمہ دار اور طاقتور ملک ہے اور اسے صرف بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

انہوں نے وزیر اعظم مودی سے براہ راست اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ان لوگوں کو واضح پیغام دیا جائے۔ آچاریہ پرمود کرشنم نے تجویز دی کہ اگر ضرورت پڑے تو حکومت کو ‘آپریشن سندور’ جیسے کسی خصوصی سفارتی یا تزویراتی اقدام پر غور کرنا چاہیے، تاکہ بنگلہ دیش میں رہنے والے سناتنی ہندو خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکن ہندو ایسوسی ایشن کی جانب سے نکالی گئی ‘سناتن یکجہتی یاترا’ کا اختتام اتر پردیش کے سنبھل میں واقع کلکی دھام میں ہوا۔ یہ یاترا پریاگ راج سے شروع ہو کر اتر پردیش کے تمام 75 اضلاع سے گزرتی ہوئی کلکی دھام پہنچی، جہاں بڑی تعداد میں سنتوں، مہنتوں اور عقیدت مندوں نے شرکت کی۔

یاترا کے اختتامی موقع پر کلکی دھام میں ایک عظیم الشان یگیہ کا انعقاد کیا گیا، جس میں عالمی امن، ہندو سماج کے تحفظ اور مظلوموں کی سلامتی کے لیے آہوتیاں دی گئیں۔ اس کے بعد ‘سنبھل کا تاریخ اور سناتن کا مستقبل’ کے موضوع پر ایک فکری نشست منعقد ہوئی، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے دانشوروں اور مذہبی لیڈروں نے اپنے خیالات پیش کیے۔

اس موقع پر امریکن ہندو ایسوسی ایشن کے صدر بابا انل نے بھی سناتن سماج کی یکجہتی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہندو سماج ذات پات اور فرقوں میں بٹا رہا، جس کا فائدہ مخالف طاقتوں نے اٹھایا، لیکن اب حالات بدل رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اتر پردیش کے بعد یہ سناتن یکجہتی یاترا پورے ملک کے 700 اضلاع تک لے جائی جائے گی۔ مجموعی طور پر کلکی دھام سے اٹھنے والی یہ آواز اس بات کی علامت ہے کہ ہندو سماج اب عالمی سطح پر اپنے وجود، شناخت اور تحفظ کے لیے منظم ہو رہا ہے اور بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر ہونے والے مظالم کے خلاف خاموش رہنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

7 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

8 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

8 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

9 hours ago