کے کویتا نے نئی سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان کیا۔
حیدرآباد: بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے صدر اور سابق وزیرِاعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کی بیٹی کلوکنتلا (کے) کویتا نے پیر کے روز تلنگانہ قانون ساز کونسل میں اپنی آخری تقریر کے دوران ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا۔ جذباتی انداز میں انہوں نے کہا کہ جس تنظیم ’تلنگانہ جاگرتی‘ کی وہ صدر ہیں، اسے اب ایک سیاسی پارٹی میں تبدیل کیا جائے گا۔
کے کویتا کو پارٹی کے اندر شدید توہین کا کرنا پڑا سامنا
کویتا نے کہا کہ پارٹی کے اندر انہیں شدید توہین کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث انہوں نے بی آر ایس سے تعلق توڑ لیا۔ قابلِ ذکر ہے کہ پارٹی سے معطلی کے بعد انہوں نے ستمبر میں قانون ساز کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔ پیر کے روز انہوں نے ایوان میں اپنے استعفے کو قبول کرنے کی اپیل کی۔
تلنگانہ جاگرتی کو سیاسی پارٹی میں تبدیل کرنے کا اعلان
تلنگانہ تحریک کے دوران ایک ثقافتی تنظیم کے طور پر قائم کی گئی تلنگانہ جاگرتی کو سیاسی جماعت میں تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ وہ مستقبل میں ایک نئی سیاسی طاقت کے طور پر دوبارہ اسمبلی میں واپس آئیں گی۔ انہوں نے کہا، ’’ریاست میں ایک نیا سیاسی پلیٹ فارم ابھر رہا ہے، جو طلبہ، بے روزگار نوجوانوں اور سماج کے تمام طبقات کے لیے کام کرے گا۔‘‘
کے کویتا نے سیاسی طاقت بن کر واپس لوٹنے کا کیا وعدہ
عوام سے آشیرواد کی اپیل کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ انہیں جس ذلت کا سامنا کرنا پڑا، اس کے باعث انہوں نے ’والدین کے گھر‘ سے تمام رشتے توڑ کر عوام کے درمیان آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تلنگانہ جاگرتی آئندہ انتخابات میں حصہ لے گی اور یقینی طور پر ایک بڑی سیاسی طاقت کے طور پر ابھرے گی۔ کے کویتا نے کہا، ’’میں آج اسمبلی سے ایک عام انسان کے طور پر جا رہی ہوں، لیکن ایک سیاسی طاقت بن کر واپس لوٹوں گی۔‘‘
والد کے اردگرد کے لوگوں نے کی کویتا کے خلاف سازش
کویتا نے الزام لگایا کہ ان کے والد کے اردگرد موجود کچھ لوگوں نے ان کے خلاف سازش کی، جس کے نتیجے میں انہیں سیاسی طور پر حاشیے پر دھکیل دیا گیا اور بالآخر پارٹی سے باہر کر دیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ برسرِاقتدار کانگریس پارٹی بی آر ایس کے اندر پیدا ہونے والی دراڑ کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
تنازع کے باعث بی آر ایس چھوڑنے کی بات کو کیا مسترد
کانگریس لیڈران کی جانب سے جائیداد کے تنازع کے باعث بی آر ایس چھوڑنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ ان کی لڑائی جائیداد کی نہیں بلکہ خودداری کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2014 میں تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد جب انہوں نے بتھوکمّا تہوار کا انعقاد کیا، تبھی سے ان پر پابندیاں عائد کی جانے لگیں اور ان کی ذاتی آزادی پر پابندی لگائی گئی۔
بھارت ایکسپریس۔
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…