قومی

Acharya Manish HIMS Founder at Bharat Express Conclave: ٹرین کی پٹری پر کیوں لیٹ گئے تھے آچاریا منیش؟ بھارت ایکسپریس پر طبی مافیا کی کھل کر نشاندہی کی گئی

بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کی تیسری سالگرہ کے خصوصی موقع پر دہلی میں منعقد میگا کانکلیو ‘ترقی یافتہ بھارت 2047: نئے بھارت کی بات’ میں نئے اور مضبوط بھارت کی خاکہ بندی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس معزز فورم پر جہاں ایک طرف ملک کی ہمہ جہت ترقی کی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال ہوا، وہیں دوسری طرف صحت اور آیوروید سے متعلق ایک ایسی حیرت انگیز حقیقت سامنے آئی، جس نے سب کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ نیٹ ورک کے سی ایم ڈی اور ایڈیٹر ان چیف اپیندر رائے کے ساتھ ایک خاص گفتگو کے دوران، 12 ہزار کروڑ روپے کی مارکیٹ کیپیٹل رکھنے والی ملک کی سب سے کامیاب آیورویدک کمپنی ایچ آئی ایم ایس کے بانی آچاریا منیش نے اپنی زندگی اور طبی دنیا سے متعلق کئی سنسنی خیز انکشافات کیے۔

آچاریا منیش نے سنائے کئی قصے

ملک کی سب سے کامیاب آیورویدک کمپنی ایچ آئی ایم ایس کے بانی آچاریا منیش نے نہ صرف آیوروید کے علم کو سمجھایا، بلکہ طبی مافیا کی سازشوں اور اپنی زندگی کے اُس خوفناک دور کا بھی انکشاف کیا جب وہ خودکشی کے لیے ٹرین کی پٹری پر جا پہنچے تھے۔

سی ایم ڈی اوپندر رائے نے کی تعریف

گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اوپندر رائے نے آچاریا منیش کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ آج ان کی کمپنی ایچ آئی ایم ایس کی مارکیٹ کیپیٹل 12 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ آرگینک طریقے سے ترقی کرتے ہوئے یہ آج ملک کی سب سے کامیاب کمپنیوں میں شامل ہے۔ جب اوپندر رائے نے آچاریا منیش سے آیوروید کی دوائیوں اور ‘کلینیکل ٹرائل’ جیسے ڈرانے والے الفاظ پر سوال کیا، تو آچاریا منیش نے بے باکی سے جواب دیا۔

آیوروید کو طبی مافیا نے بدنام کیا

کلینیکل ٹرائل کے سوال پر آچاریا منیش نے واضح کیا کہ بھارت حکومت کی ایک خاص ادارہ ہے جو آیوروید کی تمام دوائیوں کی جانچ کے بعد ہی انہیں منظور کرتی ہے۔ بغیر سرکاری جانچ اور منظوری کے کوئی بھی آیورویدک دوا مارکیٹ میں نہیں آ سکتی۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا، “آیوروید کو جان بوجھ کر طبی مافیا نے بدنام کیا ہے۔” انہوں نے بتایا کہ آیوروید کے مطابق تمام بیماریوں کی جڑ ‘مند اگنی’ یعنی کمزور ہاضمہ ہے، جسے درست کر کے شدید بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔

جب ٹرین کی پٹری پر لیٹ گئے آچاریا منیش

لوگوں کو نئی زندگی دینے والے آچاریا منیش نے اپنے مشکلات بھرے دنوں کو یاد کرتے ہوئے ایک سنسنی خیز واقعہ بیان کیا:انہوں نے بتایا “1987 سے 1995 تک میں بہت بیمار رہا۔ علاج کے لیے چاروں طرف دھکے کھاتا رہا، لیکن ٹھیک نہ ہوا۔ مایوسی اتنی بڑھ گئی کہ ایک دن میں خودکشی کے لیے ٹرین کی پٹری پر جا کر لیٹ گیا۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ صبح ساڑھے آٹھ بجے کے قریب ایک سادھو آیا اور کہا، “بھائی! ٹرین اس پٹری پر نہیں، دوسری پر آ رہی ہے… چل پٹری بدل لے۔” جب وہ اٹھ کر بیٹھے، تو انہیں احساس ہوا کہ وہ غلط کر رہے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد ٹرین وہاں سے گزر گئی۔ اس کے بعد 1995 میں ان کے پھوپا نے ان کا آیورویدک علاج شروع کیا۔ اُس وقت ان کا وزن صرف 39 کلو تھا، لیکن آیوروید کے کرشمے سے تین مہینوں میں ان کا وزن 12 کلو بڑھ گیا اور انہیں نئی زندگی ملی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

6 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

7 hours ago