قومی

Aadhaar App: نئے آدھار ایپ کے ڈاؤن لوڈز پانچ ماہ سے بھی کم عرصے میں 3.1 کروڑ سے تجاوز، 40 لاکھ صارفین نے موبائل نمبر کیا اپ ڈیٹ کیا

نئی دہلی: حکومت نے پیر کے روز بتایا کہ نیا آدھار ایپ لانچ ہونے کے پانچ ماہ سے بھی کم عرصے میں 3.1 کروڑ سے زیادہ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔ حکومت کے مطابق ملک بھر میں اس ایپ کو عوام کی جانب سے تیزی سے قبول کیا جا رہا ہے۔ وزارتِ اطلاعاتی ٹیکنالوجی نے بتایا کہ اب تک تقریباً 40 لاکھ افراد نے نئے آدھار ایپ کے ذریعے اپنا موبائل نمبر اپ ڈیٹ کیا ہے، جبکہ تقریباً 8.5 لاکھ صارفین نے اسی ایپ کی مدد سے اپنا پتہ بھی تبدیل کیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ایپ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ لوگ اب گھروں سے ہی دستیاب ڈیجیٹل خدمات پر زیادہ اعتماد کر رہے ہیں۔

اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں پر دستیاب

نیا آدھار ایپ اینڈرائیڈ اور ایپل آئی او ایس، دونوں پلیٹ فارمز پر دستیاب ہے۔ اس ایپ کو شہریوں کی سہولت کے پیش نظر تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ اسمارٹ فون کے ذریعے ہی موبائل نمبر، پتہ اور دیگر آدھار خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ یہ ایپ صارفین کو اپنی شناخت محفوظ طریقے سے دکھانے، شیئر کرنے اور اس کی تصدیق کرانے کا آسان اور رازداری پر مبنی نظام فراہم کرتی ہے۔

ایپ میں متعدد جدید سہولتیں شامل

ایپ میں ایک کلک پر بایومیٹرک لاک اور ان لاک، فیس ویریفکیشن کے ذریعے شناخت کی تصدیق، آتھنٹیکیشن ہسٹری دیکھنے اور کیو آر کوڈ پر مبنی قابلِ تدوین رابطہ کارڈ شیئر کرنے جیسی متعدد جدید سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ صارفین ای-آدھار ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں اور آدھار سیوا کیندر میں جانے کے لیے آن لائن اپائنٹمنٹ بھی بآسانی بک کرا سکتے ہیں۔

ہوٹل چیک اِن سمیت کئی شعبوں میں استعمال

حکومت کے مطابق آدھار ایپ کو مختلف عملی خدمات میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جن میں آف لائن ویریفکیشن سیکنگ اینٹیٹی (OVSE) کے کیو آر کوڈ کو اسکین کرکے ہوٹل میں چیک اِن، اسپتال میں داخلہ، وزیٹر مینجمنٹ، تقریبات میں داخلہ، گِگ ورکرز کی شناخت کی تصدیق اور مختلف سروس فراہم کنندگان کی شناختی جانچ شامل ہے۔

آف لائن تصدیقی نظام کو بھی تیزی سے فروغ

حکومت نے حال ہی میں بتایا تھا کہ آدھار پر مبنی آف لائن تصدیقی نظام کے آغاز کے صرف تین ماہ کے اندر کم از کم 100 اداروں کو آف لائن ویریفکیشن سیکنگ اینٹیٹی (OVSE) کے طور پر شامل کیا جا چکا ہے۔ حکومت کے مطابق بھارتی منفرد شناختی اتھارٹی (UIDAI) کی یہ پیش رفت محفوظ، صارف کی رضامندی پر مبنی اور مکمل طور پر پیپر لیس شناختی تصدیقی نظام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس نظام میں آدھار کی تصدیق کے لیے مرکزی ڈیٹا بیس تک فوری رسائی کی ضرورت نہیں ہوتی، جس سے صارفین کی رازداری اور ڈیٹا سکیورٹی مزید مضبوط ہوتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Protest in Delhi: راہل گاندھی کا الگ ہی انداز ہے ، اکھلیش حراست میں، الیکشن کمیشن کے دفتر پر اپوزیشن کا زبردست احتجاج

پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب بڑھ رہے اپوزیشن کے مارچ کو…

18 minutes ago

Francis Halzen Awarded Nobel Prize in Physics: فرانسس ہالزن کو فزکس کا نوبیل انعام، کائنات کے پراسرار ذرات کی دریافت پر اعزاز

نوبیل انعام کے فاتحین کو دسمبر میں سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں اعزاز سے…

30 minutes ago

Rahul Gandhi: آکاشوانی بھون میں 2 گھنٹے سے دھرنے پر بیٹھے راہل گاندھی، بولے- ہمیں کیوں روکا؟

انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے منگل کو صبح 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن…

59 minutes ago

Drishyam 3: انہیں کسی اور ٹیک کی ضرورت نہیں پڑتی، شریا سرن نے ’دریشیم 3‘ کے ساتھی اداکار اجے دیوگن کی تعریف کی

اداکارہ نے فلم کے ہدایت کار ابھشیک پاٹھک کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا،…

2 hours ago

Jantar Mantar Protest: انڈیا اتحاد کے احتجاج کے دوران ہنگامہ، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی دھرنے پر بیٹھے

انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کے مکر دوار سے مارچ شروع کیا تھا۔…

2 hours ago