نئی دہلی: ادب اورثقافت کی ترویج کے لیے کوشاں ادبی تنظیم ’کلچرل وسٹا– آپ اورہم‘ کے زیرِاہتمام، اردوکے نامورشاعربشیربدرکی یاد میں ایک پُرخلوص اوریادگارپروگرام ’خراجِ عقیدت – بشیربدر‘ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ پروگرام اتوار، 27 ستمبر2026 کوایوانِ غالب‘ (غالب انسٹی ٹیوٹ)، ماتا سندری لین، آئی ٹی او، نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ اس شام کا مقصد اردواورہندی شاعری کے عظیم شاعربشیربدرکی لازوال شاعری اورادبی ورثے کوخراجِ تحسین پیش کرنا تھا، جس میں ممتازادبی شخصیات نے شرکت کی اورمشاعرے اورکوی سمیلن کے ذریعہ ’آپ اورہم‘ کے موضوع پرشعروادب کا جشن منایا گیا۔
ادبی ورثے کا اعتراف
بشیربدر، جن کا اصل نام سید محمد بشیرتھا، 15 فروری 1935 کوایودھیا میں پیدا ہوئے۔ وہ اردو، فارسی، ہندی اورانگریزی پریکساں عبوررکھتے تھے اورانہیں 1999 میں ان کے شعری مجموعے ’آس‘ پرساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان کی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے اردوغزل کوعام بول چال کی زبان میں ڈھالا اورمحبت، تنہائی، رشتوں اورروزمرہ زندگی کے موضوعات کونہایت سادگی اورگہرائی سے پیش کیا۔ ان کے مشہوراشعارجیسے ”اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو“ اور”نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہوجائے“ آج بھی زبان زدِ عام ہیں اورمحفلوں کی رونق ہیں۔
مشاعرے کی رونق اور نظامت
اس پروگرام کی ایک اہم جھلک یہ تھی کہ اس مشاعرے کی صدارت معروف شاعرمنیرہمدم نے کی، جوپرانی دہلی کی شاعری اورروایتی ثقافت کی ایک اہم شخصیت مانے جاتے ہیں۔ اس موقع پرپہلا ’بشیربدرایوارڈ 2026‘ بھی پیش کیا گیا، جس کا مقصد ادب اورثقافت کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کوتسلیم کرنا ہے۔ یہ باوقارایوارڈ استاد شاعرمنیرہمدم کوان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں پیش کیا گیا۔ تنظیم کا وژن ہے کہ آنے والے برسوں میں بھی اس طرح کے ایوارڈزکے ذریعہ ادب، شاعری اورثقافت سے جڑی اہم شخصیات کونوازا جاتا رہے گا۔
اس پروگرام کی نظامت معین شاداب نے کی، جبکہ عمراظہارمشاعرے کے ناظم تھے۔ اپنی پُرجوش اوردلکش نظامت کے ذریعہ معین شاداب نے پوری محفل کوایک منفرد اندازمیں جوڑے رکھا اوربشیربدرپرایک سیرحاصل اور بصیرت افروزگفتگوکی اوربشیربدرکے سا تھ اپنی ملاقاتوں اوراپنے ذاتی تجربات کوسامعین کے ساتھ ساجھا کیا اوربشیربدرکے چنندہ کلام کو سامعین تک مؤثرطریقے سے پہنچایا۔ اس مشاعرے میں ملک کے مختلف حصوں سے شعرائے کرام تشریف لائے۔ جن شعراء نے اپنے کلام سے سامعین کومحظوظ کیا ان میں منیرہمدم (صدرِمحفل)، آلوک اَوِرل، دکشیت دنکوری، شاہد انجم، معین شاداب، پروفیسررحمان مصور، سنجے جین، اختراعظمی، سپنا احساس، جیوتی آزاد کھتری، وسیم نادر، حسن سونبھدری، اسراررضی، طارق عثمانی، سلمان سعید، عمراظہار، عارف دہلوی، تسلیم عارفی، شارقہ ملک اورزرین صدیقی شامل تھیں۔ اس کے علاوہ شاعرہ ریشما زیدی اوردیگرکئی معززمہمانوں نے بھی شرکت کی۔
معزز مہمانوں کی شرکت
اس ادبی محفل کو معززمہمانوں کی موجودگی نے چارچاند لگا دیے۔ ڈاکٹرخالد رضا خان (ایڈیٹر، بھارت ایکسپریس اردو) بطورمہمانِ اعزازی شریک ہوئے۔ دیگرمعززمہمانوں میں سہیل صدیقی (جنرل سکریٹری، حج وعمرہ ٹور آپریٹرزایسوسی ایشن)، عارفہ اُتساہی (کانگریس اقلیتی شعبہ، مشرقی اترپردیش کی کنوینر)، برہما چوہان، نیہا چوہان، یش باتھم اورسنکیت چودھری (بانی، اسٹارٹ اپ یوگدان) شامل تھے۔
کلچرل وسٹا کا لائحہ عمل
’خراجِ عقیدت – بشیربدر‘ صرف ایک مشاعرہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم تھا، جہاں ادب اورثقافت سے جڑے لوگوں نے ایک ساتھ مل کرایک عظیم شاعرکوخراجِ عقیدت پیش کیا۔ تنظیم کی بانی زرین صدیقی نے تمام مہمانوں اورشرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہارکیا کہ ایسے ادبی پروگرام مستقبل میں بھی منعقد کیے جاتے رہیں گے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف عظیم ادبی شخصیات کے تعاون کا جشن منانا ہے بلکہ ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، جہاں ادب، شاعری اورثقافت میں حقیقی تعاون کرنے والوں کوپہچاننا ہے تاکہ انہیں اعزازسے نوازا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
مہندر بھٹ اہلیہ، بیٹے اور بیٹی کے ہمراہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ پہنچے، بیٹے…
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کانگریس نے پیر کو ملک گیر احتجاج کیا۔…
مودی حکومت نے AC، ٹی وی اور دیگر بڑے گھریلو آلات پرجی ایس ٹی 28…
شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے نوجوانوں کے احتجاج کا موازنہ تاریخی جے پرکاش نارائن (جے…
دہلی حکومت نے موسمِ سرما میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ایکشن پلان تیار…
مختلف بائیں بازو کی جماعتوں اور عوامی تنظیموں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے…