صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے حال ہی میں میڈیا کے کردار اور اس کی سماجی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک ترقی پذیر اور خیالات سے بھرپور نیوز روم جمہوریت کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں صحافت کے بنیادی اصولوں، آزادی صحافت، اور معاشرے میں اس کے اثرات پر روشنی ڈالی۔
صحافت کا اہم کردار
صدر مرمو نے کہا کہ ایک فعال جمہوریت کے لیے میڈیا کا آزادانہ اور ذمہ دارانہ کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک نیوز روم جو خیالات سے بھرا ہو اور جہاں تنقیدی سوچ پروان چڑھتی ہو، وہ نہ صرف اطلاعات فراہم کرتا ہے بلکہ عوام کو باخبر رکھنے اور ان کی رائے تشکیل دینے میں بھی مدد دیتا ہے۔ان کا ماننا ہے کہ صحافت صرف خبروں کی ترسیل تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اسے معاشرے کے لیے ایک آئینے کا کردار ادا کرنا چاہیے جو حقائق کو بے نقاب کرے اور مثبت تبدیلی لائے۔
آزادی اور ذمہ داری کا توازن
صدر نے صحافتی آزادی کے ساتھ ساتھ اس کی ذمہ داری پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو اپنی آزادی کا استعمال کرتے ہوئے معاشرے میں افراتفری یا غلط فہمی پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں غلط معلومات تیزی سے پھیلتی ہیں، روایتی میڈیا کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ تصدیق شدہ اور معتبر اطلاعات فراہم کرے۔
تنوع اور شمولیت
صدر مرمو نے میڈیا میں تنوع اور شمولیت کی اہمیت پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ترقی پذیر نیوز روم میں مختلف پس منظر، خیالات، اور نظریات کے لوگوں کی موجودگی ضروری ہے تاکہ معاشرے کے تمام طبقات کی آواز سنی جا سکے۔ انہوں نے خاص طور پر دیہی علاقوں، خواتین، اور پسماندہ طبقات کی نمائندگی پر زور دیا، جو اکثر میڈیا کی توجہ سے محروم رہتے ہیں۔
چیلنجز اور مواقع
انہوں نے تسلیم کیا کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں میڈیا کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جیسے کہ مالی دباؤ، تیزی سے بدلتے ہوئے رجحانات، اور ساکھ کو برقرار رکھنے کی جدوجہد۔ لیکن انہوں نے اسے ایک موقع کے طور پر بھی دیکھا۔ انہوں نے کہاکہ ٹیکنالوجی نے میڈیا کے لیے نئے دروازے کھولے ہیں۔ اب وہ پہلے سے کہیں زیادہ لوگوں تک پہنچ سکتا ہے، بشرطیکہ وہ اپنے معیار اور اخلاقیات پر قائم رہے۔
میڈیا سے اپیل
اپنے خطاب کے اختتام پر صدر نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ اپنے کردار کو سنجیدگی سے لے اور معاشرے کے لیے ایک ذمہ دار واچ ڈاگ کے طور پر کام کرے۔ انہوں نے کہا، “ایک مضبوط جمہوریت کے لیے ایک مضبوط میڈیا ضروری ہے، اور اس کی طاقت اس کے خیالات، اس کی سچائی، اور اس کی غیر جانبداری میں مضمر ہے۔صدر دروپدی مرمو کا یہ بیان میڈیا کے لیے ایک رہنما اصول کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے نہ صرف صحافت کی اہمیت کو اجاگر کیا بلکہ اسے درپیش چیلنجز اور اس کے مواقع کو بھی واضح کیا۔ ان کا خیال ہے کہ ایک ترقی پذیر اور خیالات سے بھرپور نیوز روم نہ صرف جمہوریت کو مضبوط کرتا ہے بلکہ معاشرے کو آگے بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…
کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…
حکام کے مطابق، سڑکوں کے کئی حصے اب بھی متاثر ہیں، جس کی وجہ سے…
بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی…
کوسل مینڈس 99 رنز کے اسکور پر آؤٹ قرار دیے گئے تھے۔ 31ویں اوور میں…
آئی ایم ڈی کے مطابق، 25 ستمبر کو دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت…