قومی

A theatre review seminar: سنگیت، ادب اور روحانیت کا سنگم: ’کلا سنکل‘ میں تھیٹر سمینار اور ڈرامہ ’یُگ پُرش‘ کی تخلیقی پیشکش

نئی دہلی: ’’سنسکار بھارتی‘‘ کے کلا سنکل احاطے میں اتوار کے روز ’’خیال اور تخلیقیت پر مبنی تھیٹر سمینار‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ اس ادبی و فنی تقریب کا آغاز چراغ روشن کرنے کی رسم سے ہوا، جس میں کلا سنکل کے کنوینر اشوک تیواری، مہمان خصوصی راجیش جین ’چیتن‘، ناٹک کے مصنف و ہدایت کار جے پی سنگھ اور سینئر تھیٹر آرٹسٹ اوتار ساہنی موجود تھے۔

’یُگ پُرش‘ روحانیت کی روشنی میں تخلیقی مکالمہ

اس موقع پر دہلی کی رنگ بھومی تھیٹر کمپنی کے زیر اہتمام پیش کیے گئے ڈرامے ’’یُگ پُرش‘‘ پر تفصیلی تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا۔ یہ ڈرامہ رام کرشن پرم ہنس اور سوامی وویکانند کی زندگی کے اُس دور پر مبنی ہے جب نریندر ابھی وویکانند نہیں بنے تھے لیکن خود شناسی اور روحانی جستجو کی راہ پر گامزن تھے۔ ڈرامے کی کچھ منتخب جھلکیاں دکھانے کے بعد اس کے ہدایت کار جے پی سنگھ، رام کرشن کا کردار ادا کرنے والے وپن کمار، سوامی وویکانند کا کردار نبھانے والے سدھیر رخاری اور مہمان خصوصی راجیش جین ’چیتن‘ اسٹیج پر موجود رہے۔

شاعری، موسیقی اور مکالمے کی روحانی آمیزش

تقریب کے دوران راجیش جین نے اپنی ایک خوبصورت نظم سنائی، جس نے ’’یُگ پُرش‘‘ کے روحانی مفہوم کو ناظرین کے دلوں تک پہنچا دیا۔ مکالمہ سیشن میں فنکاروں نے اپنے تجربات بیان کیے کہ اتنے گہرے روحانی کرداروں کو نبھانے کے لیے انھوں نے کس طرح خود کو تیار کیا اور ان کرداروں نے ان کی ذاتی فکر و احساسات کو کیسے بدلا۔ اختتام پر سدھیر رخاری نے اپنی مدھر آواز میں ایک بھجن پیش کیا، جس نے فضا کو روحانیت اور جذبے سے بھر دیا۔ ان کے نغمے نے ڈرامے کے مرکزی خیال کو گویا نئے رنگ میں زندہ کر دیا۔

فنکاروں کا اعزاز اور کارکنان کا جذبۂ خدمت

ڈرامے کے دیگر نمایاں فنکاروں میں ارون سوندھے، ترپتی جوہری، شدھو بنرجی، گورو ورما، مکیش اور ہری سنگھ کھولیا شامل تھے۔ تمام فنکاروں کو کلا سنکل کے ارکان نے شال اور پودے پیش کر کے اعزاز سے نوازا۔ اس تقریب کی کامیابی میں کئی سرگرم کارکنوں نے کلیدی کردار ادا کیا، جن میں خاص طور پر بھارتی ڈانگ نے نہایت خوبصورت انداز میں نظامت کی۔ شروتی سنہا، گریما رانی، اسنیہا مکھرجی، شیام کمار، راج اپادھیائے، شرابونی ساہا اور ہرشت گوئل کے مخلصانہ تعاون نے پروگرام کو یادگار بنا دیا۔ پوری محفل میں کلا سنکل پریوار کی اجتماعی ہم آہنگی اور فن سے محبت نمایاں طور پر جھلکتی رہی۔ اس نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ سنسکار بھارتی صرف فنون لطیفہ کا ادارہ نہیں بلکہ بھارتیتہ، روحانیت اور انسانی احساسات کا زندہ استعارہ ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

4 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

4 hours ago