قومی

CMD Upendrra Rai In Atmanirbhar Shekhawati Seminar: ‘آتم نربھر شیخاواٹی’ کے موضوع پر ایک اہم سمپوزیم کا انعقاد، اپیندر رائے کی شرکت، تعلیم اور صنعت کا منفرد امتزاج

نئی دہلی :راجستھان کے سیکر میں واقع پنڈت دین دیال اپادھیائے شیخاواٹی یونیورسٹی میں آج تعلیم اور صنعت کا ایک منفرد امتزاج دیکھنے کو ملا۔ یونیورسٹی کے چھٹے کانووکیشن کی مناسبت سے ’آتم نربھر شیخاواٹی‘ کے موضوع پر ایک اہم سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔اس فکری نشست میں مہمانِ خصوصی کے طور پر اپیندر رائے، سی ایم ڈی اور ایڈیٹر اِن چیف بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک شریک ہوئے۔ ان کے علاوہ ملک بھر کے معروف صنعت کار، عوامی نمائندے، ماہرین تعلیم اور دانشور طبقے کے افراد بھی اس پروگرام میں موجود رہے۔ اس موقع پر مقررین نے خطہ شیخاواٹی کی معاشی، تعلیمی اور صنعتی ترقی کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی اور اسے خود کفالت کی جانب لے جانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔

سمپوزیم میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تعلیم، ہنر مندی اور صنعت کے درمیان مضبوط تال میل قائم کر کے نہ صرف شیخاواٹی بلکہ پورے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ مقررین نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی مہارتوں سے بھی آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ وہ روزگار کے متلاشی بننے کے بجائے روزگار فراہم کرنے والے بن سکیں۔

اس سمپوزیم کا بنیادی مقصد

اس سمپوزیم کا بنیادی مقصد ’وکست بھارت 2047‘ کے عظیم ہدف میں شیخاواٹی خطے کے ممکنہ کردار پر غور و خوض کرنا تھا۔ مقررین نے کہا کہ شیخاواٹی اپنی تعلیمی روایت، کاروباری ذہن اور ثقافتی ورثے کی بدولت خود کفالت کی راہ پر تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مقامی صنعتوں کو فروغ دیا جائے اور نوجوانوں کو جدید کاروباری مواقع فراہم کیے جائیں۔

پروگرام کے مقام پر شیخاواٹی خطے کے ابھرتے ہوئے اسٹارٹ اپس، جدید اختراعات، منفرد دستکاری اور نئے صنعتی منصوبوں پر مبنی شاندار نمائش بھی لگائی گئی۔ ان نمائشوں میں نوجوان کاروباری افراد نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ ہاتھ سے تیار کردہ مصنوعات، جدید ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبے اور مقامی وسائل سے تیار ہونے والی اشیا نے شرکاء کی خاص توجہ حاصل کی۔

نمائش میں پیش کی گئی مصنوعات اور منصوبوں نے یہ واضح کیا کہ شیخاواٹی خطہ نہ صرف ثقافتی لحاظ سے مالا مال ہے بلکہ صنعتی اور معاشی ترقی کے بے شمار امکانات بھی رکھتا ہے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حکومت، تعلیمی ادارے اور صنعت کار مل کر کام کریں تو شیخاواٹی خطہ مستقبل میں خود کفالت کی ایک مثالی مثال بن سکتا ہے۔یہ پروگرام نہ صرف طلبہ اور نوجوانوں کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوا بلکہ اس نے ’آتم نربھر بھارت‘ کے وژن کو عملی شکل دینے کی سمت ایک مضبوط قدم بھی ثابت کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Union Home Minister Amit Shah: بنگال جینتی پر امت شاہ نے ایشور چندر ودیا ساگر کو پیش کی خراج تحسین

امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…

2 hours ago

Dr. Manmohan Singh: پی ایم مودی، ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی سمیت کئی لیڈروں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یوم پیدائش پر کیا یاد

کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…

3 hours ago

CEC Gyanesh Kumar: گیانیش کمار کو جانا ہی ہوگا، کانگریس کا مطالبہ، کاکروچ جنتا پارٹی کا آج ختم ہو رہا ہےالٹی میٹم

کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…

5 hours ago