قومی

دہلی اردو اکادمی کے زیراہتمام منعقدہ قومی سیمینار کے آخری دن معاصر ادبی رجحانات پر جامع بحث، عنوان کے انتخاب کی زبردست ستائش، جانئے پوری تفصیل

نئی دہلی: اکیسویں صدی میں ادبی رجحانات محض اسلوبی یا فنی تبدیلیوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ انہوں نے فکری، سماجی اورتہذیبی سطح پربھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ عصرِحاضر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، عالمگیریت، ڈیجیٹل ذرائع، سماجی تغیرات اورنئی فکری تحریکوں نے ادب کوایک نئے تناظرسے روشناس کرایا ہے، جہاں روایت اورجدت کے درمیان ایک بامعنی مکالمہ قائم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں ادبی رجحانات کا تجزیہ نہ صرف موجودہ ادبی صورتِ حال کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ مستقبل کی سمتوں اورامکانات کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔اسی فکری پس منظرمیں اردواکادمی، دہلی کے زیرِاہتمام جاری قومی سمینار ’’اکیسویں صدی میں ادبی رجحانات: تجزیہ اور امکانات‘‘ کے تیسرے اورآخری دن دو اہم علمی اجلاس منعقد ہوئے، جن میں معاصر اردوادب کے فکری، سماجی اورثقافتی پہلوؤں پر تفصیلی گفتگوکی گئی۔
تیسرے دن کے پہلے اجلاس کی صدارت سید ابوذرہاشمی، پروفیسرشہاب عنایت ملک اورپروفیسرمشتاق احمد نے مشترکہ طورپرکی، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹرنثاراحمد خان نے انجام دیے۔ اس اجلاس میں اردوادب کے عصری مسائل اوررجحانات پرمختلف زاویوں سے مقالات پیش کیے گئے۔ مقالہ نگاروں میں پروفیسرصفدرامام قادری، ڈاکٹرخالد علوی، پروفیسرابوبکرعباد، ڈاکٹر احسن ایوبی اورڈاکٹرجگدمبا دوبے شامل تھے۔ پیش کیے گئے مقالات میں اکیسویں صدی میں اردوادب کے فکری وجمالیاتی رجحانات، غزل کی روایت اورعصری تقاضے، ماحولیاتی ادب اور اردوفکشن، ترجمہ نگاری اوربین الثقافتی مکالمہ، نیزدلت، اقلیت اورپسماندہ طبقات کے ادبی اظہارجیسے اہم موضوعات زیرِبحث آئے۔ مقالات پرسنجیدہ اورفکری گفتگوہوئی، جس سے اجلاس کی علمی فضا خاصی بھرپوررہی۔

سیمینار کے ذیلی عناوین اپنی انفرادیت کی وجہ سے خصوصی توجہ کا مرکز: سیدابوذرہاشمی

صدارتی خطاب میں سید ابوذرہاشمی نے کہا کہ اگرچہ ادبی رجحانات کا موضوع نیا نہیں، تاہم اس سمینارکے ذیلی عناوین اپنی انفرادیت کے باعث خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ انہوں نے اس بات پرزوردیا کہ تحریرمیں جامعیت کے ساتھ معنویت کا ہونا ہی ایک سنجیدہ قلم کارکی پہچان ہے۔ پروفیسرشہاب عنایت ملک نے اردوزبان اوررسم الخط کے تحفظ کی اہمیت اجاگرکرتے ہوئے کہا کہ اردورسم الخط میں کتابوں کی کم اشاعت ایک فکرانگیزصورتِ حال ہے۔ پروفیسرمشتاق احمد نے کہا کہ ادب میں مغرب کی محض تقلید درست نہیں، البتہ بدلتے ہوئے تناظرمیں اس سے بامعنی استفادہ ضرورکیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پیش پا افتادہ موضوعات پرلکھے جانے والے مقالات پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے موضوعات پرمواد کی فراوانی کے باوجود سنجیدہ اور معنی خیزگفتگوایک مشکل مرحلہ بنتی جا رہی ہے۔ مزید یہ کہ اردوادب میں آج بھی غزل کومرکزی حیثیت حاصل ہے۔

پروفیسرخواجہ محمد اکرام اورپروفیسرابوبکرعباد نے دوسرے سیشن کی صدارت کی
ظہرانے کے بعد منعقد ہونے والے دوسرے اجلاس کی صدارت پروفیسرخواجہ محمد اکرام الدین اورپروفیسرابوبکرعباد نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹرندیم احمد نے انجام دیے۔ اس اجلاس میں پروفیسرشہاب عنایت ملک، پروفیسراحمد امتیاز، ڈاکٹرصدف اقبال اورڈاکٹرسفینہ بیگم نے اپنے مقالات پیش کیے۔ مقالات کے موضوعات میں بچوں اورنوجوانوں کا ادب: نئے رجحانات، اردو میں تہذیبی تنقید کی روایت، نظمِ معرّیٰ، نثری نظم اورنئی شعری جمالیات شامل تھے، جن پر شرکاء  نے بامعنی سوالات اورآرا پیش کیں۔اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر ابو بکرعباد نے سمینارکی کامیابی کا سہرا اردواکادمی کے سرباندھتے ہوئے کہا کہ پیش کیے گئے تمام مقالات معیاری، بامقصد اورساخت کے اعتبارسے قابلِ ستائش تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی مقالہ نگارسے محض پندرہ منٹ میں تمام تخلیق کاروں اورتصانیف کا احاطہ کرنے کی توقع غیرعملی ہے۔ ان کے مطابق ادب اورتنقید کوئی خطی عمل نہیں بلکہ ایک دائرہ نما فکری سرگرمی ہے، جووقت کے ساتھ وسعت اورگہرائی اختیارکرتی رہتی ہے۔

سیمینارمیں نئی نسل کی شرکت کو پروفیسرخواجہ محمد اکرام نے خوش آئند قراردیا

پروفیسرخواجہ محمد اکرام الدین نے اپنے خطاب میں اس بات کوخوش آئند قراردیا کہ سمینارمیں نئی نسل کی بڑی تعداد میں شرکت دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے اس کامیاب شمولیت پراردواکادمی کومبارکباد دی اورکہا کہ اکیسویں صدی مصنوعی ذہانت کا عہد ہے، جس کی برق رفتاری نے ہماری فکری ساخت اورطرزِفکرکوتیزی سے بدل دیا ہے۔ ایسے بدلتے ہوئے منظرنامے میں ادب کے رجحانات اوررویوں میں تبدیلی ناگزیرہے، جس کے اثرات تخلیقی ادب میں بھی نمایاں طورپردیکھے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اکیسویں صدی میں اردونے اپنی تخلیقات کو جس طرح عوامی سطح پر پیش کیا ہے، وہ اب عالمی ادب کے مشترکہ ورثے کا حصہ بن چکی ہیں۔ نئی نسل کے تخلیقی بیانیے کوانہوں نے حیرت انگیزقراردیتے ہوئے کہا کہ ان کی تخلیقات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مشینی دورکے باوجود اردوادب نہ صرف زندہ ہے بلکہ تیزی سے ترقی کی منازل طے کررہا ہے۔

اکیسویں صدی سماجی، فکری اورثقافتی تناظرمیں نئی معنویت اورنئے امکانات کی تشکیل میں مصروف
دونوں اجلاسوں میں ہونے والی گفتگوسے یہ بات واضح ہوئی کہ اکیسویں صدی کا اردوادب محض روایت کا تسلسل نہیں، بلکہ بدلتے ہوئے سماجی، فکری اورثقافتی تناظرمیں نئی معنویت اور نئے امکانات کی تشکیل میں مصروف ہے۔ ان اجلاسوں نے سمینارکے مرکزی موضوع کومزید وسعت بخشی اورمعاصرادبی رجحانات کوسمجھنے میں اہم کردارادا کیا۔ سمینارکے اختتام پراردو اکادمی کے اسسٹنٹ پبلی کیشن آفیسرمحمد ہارون نے اظہارِتشکرکرتے ہوئے تمام شرکاء ، مہمانانِ گرامی اورریسرچ اسکالرزکا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سمینار کے کنوینرپروفیسرابوبکرعباد کی رہنمائی کو سراہتے ہوئے ان کا خصوصی طورپرشکریہ ادا کیا، نیزاکادمی کے تمام رفقا کی عملی کاوشوں پربھی دلی شکریہ ادا کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

LPG Subsidy New Rules: ایل پی جی گیس بکنگ میں تبدیلی، یکم اکتوبر سے نئے اصول نافذ، سبسڈی کے لیے کرنا ہوگا یہ کام

یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…

3 hours ago

JDU Internal Rift: جے ڈی یو میں اننت سنگھ اور نیرج کمار آمنے سامنے، پٹنہ گریجویٹ نشست پر بڑھا تنازع

اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…

4 hours ago

Andaman Tourism Vision: انڈمان کے سیاحتی شعبے کو نئی سمت دینے کی تیاری، قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے تیار ہوگا وژن ڈاکیومنٹ

لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…

4 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: پاکستان نے گرچہ اردو کو اپنی زبان بنایا، لیکن اس کی جائے پیدائش اور اس کا خمیر ہندوستانی ہے: کرن رجیجو

بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…

4 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ملک کو اپنے کھلاڑیوں پر فخر ہے، وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کریں: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…

5 hours ago