کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیت۔
نئی دہلی: کانگریس پارٹی نے جمعرات کے روز مرکزی حکومت پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے معاملے میں دوہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف حکومت بڑے پیمانے پر اے آئی سمٹ کا انعقاد کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب کانگریس کے اے آئی سے تیار کردہ طنزیہ ویڈیوز ہٹانے کے احکامات جاری کیے جا رہے ہیں۔
نو اے آئی جنریٹڈ ویڈیوز ہٹائے گئے
نئی دہلی میں منعقد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کی ترجمان اور سوشل میڈیا و ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی چیئرپرسن سپریا شرینیت نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران پارٹی کی جانب سے تیار کردہ نو اے آئی جنریٹڈ ویڈیوز کو مختلف پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ کارروائی بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی حکومت اور بی جے پی زیرِ اقتدار ریاستوں کی انتظامیہ کی ہدایات پر کی گئی۔
اے آئی جنریٹڈ کا ڈسکلیمر موجود تھا
انہوں نے کہا کہ تمام ویڈیوز پر واضح طور پر ’’اے آئی جنریٹڈ‘‘ کا ڈسکلیمر موجود تھا اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق یہ ویڈیوز سیاسی طنز پر مبنی تھیں اور پارلیمنٹ و عوامی فورمز پر اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل کی ڈرامائی پیشکش تھیں۔
کانگریس نے الزام لگایا کہ ویڈیوز ہٹانے کے احکامات یا تو بہار، راجستھان، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر جیسی بی جے پی حکومت والی ریاستوں کی پولیس نے جاری کیے یا پھر الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے کارروائی کی گئی۔
سپرِیا شرینیت نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 69 اے کے تحت بغیر مکمل شفافیت کے مواد بلاک کیا جا سکتا ہے، جبکہ دفعہ 79(3)(بی) کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز حکومتی احکامات پر عمل کرکے اپنی قانونی ذمہ داری سے بچ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مواد ہٹانے کی وجوہات عام طور پر منظرِ عام پر نہیں لائی جاتیں، جس سے عدالتی چیلنج دینا مشکل ہو جاتا ہے۔
کانگریس نے مجوزہ آن لائن سنسرشپ پورٹل ’’سہیوگ‘‘ پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ شرینیت کے مطابق اس سے متعدد سرکاری افسران کو مواد ہٹانے کے اختیارات مل جائیں گے، جس سے ڈیجیٹل اظہارِ رائے پر انتظامیہ کا کنٹرول بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، “اب بیوروکریٹس طے کریں گے کہ ملک کیا دیکھے اور کیا نہیں۔” پارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز YouTube، Meta اور X پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ کمپنیاں حکومتی دباؤ میں آکر ویڈیوز ہٹانے میں جلد بازی کر رہی ہیں۔
کانگریس نے نئی دہلی میں منعقد اے آئی سمٹ کے انتظامات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ شرینیت نے لاجسٹک مسائل، آلات پر پابندیوں اور شرکاء کو ناکافی انٹرنیٹ سہولت فراہم کیے جانے کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ ایک نجی یونیورسٹی کی جانب سے نمائش میں پیش کیے گئے چینی ساختہ روبوٹ کو مقامی یعنی ’’سودیشی‘‘ قرار دیا گیا، جس سے متعلق پوسٹ بعد میں سوشل میڈیا سے ہٹا دی گئی۔
کانگریس نے مؤقف دہرایا کہ اس کے اے آئی ویڈیوز کسی قانون یا اخلاقی ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کرتے بلکہ ان کا مقصد حکومت سے جوابدہی طلب کرنا اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔ شرینیت نے کہا کہ سیاسی طنز اور تنقید جمہوری نظام کا جائز اور ضروری حصہ ہیں۔
پارٹی نے یہ بھی الزام لگایا کہ پولیس کانگریس آئی ٹی سیل سے وابستہ نوجوانوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی مقدمہ بنتا ہے تو براہِ راست ان کے خلاف کارروائی کی جائے، کارکنوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔
بھارت ایکسپریس۔
وورا کا الزام ہے کہ 2011 میں ان کی معلومات کے بغیر مبینہ طور پر…
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…