قومی

Acharya Pramod Krishnam On Modi Government: مودی حکومت کے 12 سال ہندوستانی جمہوریت کا سنہری دور: آچاریہ پرمود کرشنم، راہل گاندھی پر بھی طنز

کانگریس کے سابق لیڈر اور مذہبی شخصیت آچاریہ پرمود کرشنم نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے 12 سال مکمل ہونے پر کھل کر تعریف کی ہے۔ غازی آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ موجودہ دور ہندوستانی جمہوریت کا ”سنہری دور“ ہے اور گزشتہ 12 برسوں کو ملک کی تاریخ میں ”رام راجیہ“ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب تو راہل گاندھی کے نَنِہیال اٹلی میں بھی وزیر اعظم مودی کی عالمی مقبولیت اور اثر کو تسلیم کیا جا چکا ہے، لیکن کانگریس لیڈر اب بھی اسے سمجھنے میں ناکام ہیں۔ آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ سال 2014 کا لوک سبھا انتخاب صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ملک کی سمت بدلنے والا فیصلہ ثابت ہوا۔ ان کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس وقت نریندر مودی کو وزیر اعظم کے چہرے کے طور پر پیش کیا تھا اور عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ انہیں قبول کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ملک میں ترقی، ثقافت، مذہب اور قومی سلامتی کے شعبوں میں تاریخی تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے صرف سیاست نہیں کی بلکہ ہندوستانی تہذیب، سناتن روایت اور قوم پرستی کو مضبوط بنانے کے لیے بھی بڑے اقدامات کیے۔ آچاریہ کے مطابق حکومت نے غریبوں کی فلاح کے لیے متعدد اسکیمیں نافذ کیں، سرحدی سلامتی کو مستحکم بنایا اور سائنس و خلائی تحقیق کے میدان میں بھارت کو نئی شناخت دی۔ انہوں نے کہا کہ سرجیکل اسٹرائیک جیسے فیصلوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ بھارت اپنی سلامتی کے معاملے میں اب کمزور نہیں رہا۔

آچاریہ پرمود کرشنم نے مذہبی اور روحانی مقامات کی ترقی کو بھی موجودہ حکومت کی بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کاشی وشوناتھ کاریڈور، اجین مہاکال لوک، سومناتھ، بابا کیدارناتھ اور ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر جیسے منصوبوں نے کروڑوں لوگوں کے جذبات کو جوڑا ہے۔ ان کے مطابق پانچ سو سالہ انتظار کے بعد ایودھیا میں رام جنم بھومی مندر کی پران پرتشٹھا صرف ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ ملک کے عوام کے عقیدے کا احترام ہے۔ انہوں نے کلکی دھام کے سنگ بنیاد کو بھی سناتن ثقافت کے لیے تاریخی قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی، تین طلاق کے خاتمے اور خواتین کے ریزرویشن بل جیسے فیصلوں نے ہندوستانی سیاست اور سماج دونوں میں نمایاں تبدیلی پیدا کی۔ ان کے مطابق مودی حکومت نے معیشت کو مضبوط کیا اور دنیا میں بھارت کی نئی شناخت قائم کی۔ آچاریہ نے دعویٰ کیا کہ آج پوری دنیا وزیر اعظم مودی کی قیادت اور بھارت کی طاقت کو تسلیم کر رہی ہے۔

راہل گاندھی پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اٹلی اور روم تک مودی کے اثرات کو سمجھ چکے ہیں لیکن کانگریس لیڈر اب بھی صرف تنقید میں مصروف ہیں۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ وزیر اعظم مودی کو راہل گاندھی کو ”میلوڈی“ چاکلیٹ کا ایک پیکٹ بھیجنا چاہیے تاکہ وہ بھی اس کا ذائقہ سمجھ سکیں۔ آچاریہ نے کہا کہ نریندر مودی کی پوری زندگی ملک کے نام وقف ہے اور وہ ہر لمحہ عوامی خدمت کے لیے وقف رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیوالی ہو یا ہولی، وزیر اعظم اکثر فوجی جوانوں کے درمیان نظر آتے ہیں اور ان کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ آچاریہ پرمود کرشنم کے مطابق بھارت کی تاریخ میں مودی جیسا وزیر اعظم پہلے کبھی نہیں آیا اور مستقبل میں بھی اس جیسی قیادت ملنا آسان نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مذہبی سیاحت، ڈیجیٹل انڈیا، اجولا یوجنا اور غریب فلاحی منصوبوں کے ذریعے دیہات اور پسماندہ طبقات تک ترقی پہنچانے کا کام کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

3 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

3 hours ago