یوکرئن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ روسی صدر ولادی میر پوتن کے خلاف سخت موقف اختیار کریں۔ انہوں نے بڈاپیسٹ میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں شرکت کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکہ چھوڑتے ہوئے مطلوبہ ہتھیاروں کے بغیر بھی پرامید ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ کی پوتن اور زیلنسکی کی ملاقات کرانے کی کوشش ناکام ہو گئی تھی۔
حماس سے زیادہ طاقتور پوتن؟
ایک نیوز چینل کے ساتھ خصوصی انٹرویو کے دوران زیلنسکی نے کہا کہ ٹرمپ کو پوتن پر اس سے بھی زیادہ دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے جتنا کہ انہوں نے حماس کے ساتھ حالیہ کامیاب جنگ بندی کرانے میں ڈالا تھا۔ زیلنسکی نے مزید کہا کہ پوتن بھی اسی طرح کے ہیں، لیکن حماس سے زیادہ طاقتور ہیں، اس لیے مزید دباؤ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ باتیں جنگ کے بڑے پیمانے اور دنیا کی دوسری بڑی فوج کے طور پر روس کی پوزیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے کہیں۔یوکرائنی صدر کو امید تھی کہ امریکہ روس پر دباؤ بنانے کے لیے انہیں ٹوما ہاک میزائل فراہم کرے گا لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے بعد میں اس معاملے کو ٹال دیا۔ زیلنسکی نے کہا کہ یہ اچھا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ’’نہیں‘‘ نہیں کہا لیکن انہوں نے’’ہاں‘‘ بھی نہیں کہا۔ پوتن کے تحفظات کے حوالے سے زیلنسکی نے کہا کہ روسی صدر کو خدشہ ہے کہ امریکہ یوکرین کو ٹوما ہاک میزائل دے گا اور میرے خیال میں وہ حقیقی طور پر خوفزدہ ہیں کہ ہم انہیں استعمال کریں گے۔
بات چیت کے دوسرے دور طور پر بڈاپسٹ میں پوتن سے ملاقات
وہیں امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ یوکرین میں جنگ ختم کرنے کے لیے بات چیت کے دوسرے دور طور پر بڈاپسٹ میں پوتن سے ملاقات کریں گے۔ زیلنسکی، جنہوں نے پہلے پوتن کو ’’دہشت گرد‘‘ کہا تھا، اس کے باوجود براہ راست بات چیت کی اپنی خواہش کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم واقعی ایک منصفانہ اور دیرپا امن چاہتے ہیں تو ہمیں اس سانحے کے دونوں فریقوں کی ضرورت ہے، ہمارے بغیر کوئی معاہدہ کیسے ہو سکتا ہے۔ یوکرین کے صدر نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے ٹرمپ سے بڈاپسٹ سربراہی اجلاس میں شرکت کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ’’میں تیار ہوں‘‘۔
کریملن نے امریکی کوششوں کو مسترد کر دیا تھا
اس سے قبل دونوں لیڈران کے درمیان ملاقات کا بندوبست کرنے کی ٹرمپ کی سابقہ کوششیں ابتدائی امید کے بعد ناکام ہو گئیں، کیونکہ کریملن نے امریکی کوششوں کو مسترد کر دیا تھا۔ زیلنسکی کا دورہ یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بڑھتے ہوئے روسی حملوں کے درمیان سامنے آیا، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں بلیک آؤٹ ہو گیا ہے، جب کہ یوکرین اقتصادی دباؤ ڈالنے کے لیے روسی توانائی کے نظام کو نشانہ بنا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی بات رکھتے ہوئے کہا، ’’حکومت…
بھارتی ٹیم نے 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 195 رنز بنائے اور…
سوندریا نے 2010 میں فلم ’گوا‘ کے ذریعے بطور پروڈیوسر اپنے فلمی کیریئر کا آغاز…
جنرل شیکرچی نے ہفتے کے روز کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کی جانب…
بی ایم سی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نائر اسپتال کے چیف میڈیکل…
آٹھویں جماعت کی ایک طالبہ نے الزام لگایا کہ جمعہ کو وہ امتحان کے لیے…