ماسکو: روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے، جہاں یورپ کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر زاپوریژیا نیوکلیئر پلانٹ کی ریڈی ایشن مانیٹرنگ لیبارٹری پر ڈرون حملے نے دنیا بھر میں تشویش اور خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔ روس نے اس واقعے کو ”جوہری دہشت گردی“ قرار دیتے ہوئے یوکرین پر براہ راست الزام عائد کیا ہے، جبکہ عالمی ماہرین نے اس حملے کو نہایت حساس قرار دیتے ہوئے بڑے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ روسی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ایک خودکش ڈرون نے اتوار کے روز پلانٹ کے بیرونی ریڈی ایشن کنٹرول سسٹم کو نشانہ بنایا، جو فضاء میں تابکاری کی سطح کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔ اس لیبارٹری کا مقصد کسی بھی ممکنہ جوہری اخراج کی صورت میں فوری انتباہ فراہم کرنا ہے، تاکہ انسانی جانوں کو بچایا جا سکے اور بروقت حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس قسم کی تنصیبات کو نقصان پہنچتا ہے تو کسی بھی جوہری حادثے کی صورت میں بروقت معلومات کا حصول مشکل ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں نقصان کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔ اگرچہ پلانٹ انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اہم آلات محفوظ ہیں اور تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے، تاہم روسی حکام نے اس حملے کو عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ زاپوریژیا نیوکلیئر پلانٹ دنیا کے بڑے جوہری مراکز میں شمار ہوتا ہے اور یہاں کسی بھی بڑے حادثے کی صورت میں 1986 کی چرنوبیل آفت جیسی تباہی بھی کم محسوس ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر تابکاری خارج ہوتی ہے تو اس کے اثرات چند گھنٹوں میں یورپ کے مختلف ممالک تک پہنچ سکتے ہیں، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری تنصیبات پر حملے ”آگ سے کھیلنے“ کے مترادف ہیں اور اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فریقین کو فوری طور پر ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو عالمی سطح پر بحران کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اس حملے کو اپنے ملک کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ روس اس کے جواب میں یوکرین کے توانائی ڈھانچے پر مزید سخت حملے کر سکتا ہے، جس سے جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا خدشہ ہے۔ موجودہ صورتحال نے عالمی برادری کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ جوہری خطرات کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات سرحدوں سے ماورا ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یہ تنازع ایک بڑے عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…
پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…
بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…
سی بی ایس ای کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے 2 اگست 2026 کو ملک…
یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…