ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں امریکہ کی بھی انٹری ہو چکی ہے۔ 22 جون کو امریکہ نے ایران کے 3 جوہری مقامات فوردو، اصفہان اور نطنز پر حملہ کیا، لیکن بوشہر پر حملہ کرنے سے گریز کیا۔ حالانکہ اسرائیل جنگ کے پہلے ہی دن سے ایران کے مذکورہ چاروں جوہری مقامات کو نشانہ بنانے کی بات کہہ رہا ہے، لیکن اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے بوشہر جوہری پاور پلانٹ پر حملہ کے اعلان کو غلط بتایا ہے۔ فی الحال ان جوہری مقامات سے ریڈی ایشن پھیلنے کی کوئی خبر موصول نہیں ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کی بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) حالات پر قریب سے نظر رکھ رہی ہے۔
روس نے پہلے ہی کیا تھا خبردار
ایران اور اسرائیل جنگ کے درمیان روس نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے بوشہر جوہری پاور پلاںٹ پر حملہ ہوتا ہے تو اس سے ’چرنوبل‘ جیسی جوہری تباہی پیدا ہو سکتی ہے۔ واضح ہو کہ 1986 میں جب یوکرین سوویت یونین کے ماتحت تھا، تب وہاں ایک جوہری ری ایکٹر میں دھماکہ ہو گیا تھا۔ اس کے بعد یوکرین کا ایک بڑا علاقہ تباہ ہو گیا تھا اور کئی سالوں تک ریڈی ایشن پھیلا رہا۔
جوہری مقامات پر حملہ کے بعد پوری دنیا فکر مند
امریکہ کے ایران کے تینوں جوہری مقامات پر حملہ کے بعد پوری دنیا فکر مند ہو گئی ہے۔ ایسے میں سائنسدانوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگر ایران کے بوشہر جوہری مقام پر حملہ ہوا تو بڑے پیمانے پر تباہی آ سکتی ہے۔ اس کی اصل وجہ ہے بوشہر کا ٹھکانہ، دراصل یہ ایران کا سب سے فعال جوہری ری ایکٹر ہے اور خلیج فارس کے بالکل متصل ہے۔ یونی ورسٹی آف مینچسٹر کے پروفیسر رچرڈ ویکفرڈ کے مطابق اگر جوہری پاور پلانٹس کافی بڑے ہوں اور ان جگہوں پر جوہری افزودگی کا کام ہوتا ہے تو یہ ایک بڑا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ایسے ٹھکانوں پر حملہ سے ریڈیو ایکٹیو اشیاء کے ہوا اور پانی کے ذریعہ سمندر میں پھیلنے کا خطرہ ہے۔
بوشہر پر حملہ کی صورت میں ریڈیشن پھیلنے کا خطرہ
اگر اسرائیل کی جانب سے ایران کے بوشہر جوہری مقام پر حملہ کیا جاتا ہے تو اس سے خلیجی ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، عمان، قطر، عراق اور بحرین کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ بوشہر خلیج فارس سے بالکل متصل ہے۔ بوشہر پر حملہ کی صورت میں ریڈیو ایکٹیو اور زہریلی اشیاء خلیج فارس کے پانی میں مل سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں وہ ممالک متاثر ہو سکتے ہیں جو پانی کو پیوریفائی (صاف) کر استعمال کرنے پر منحصر ہیں۔
خلیج فارس کے پانی پر منحصر ہیں کئی ملک
متحدہ عرب امارات میں پینے کے پانی کی کل فراہمی میں خلیج فارس کا پیوریفائی کیا ہوا پانی 80 فیصد ہے۔ دوسری جانب بحرین مکمل طور سے پیوریفائی کیے ہوئے پانی پر منحصر ہے، کیونکہ 2016 میں بحرین حکومت نے زیر زمین پانی کو ایمرجنسی کی صورت میں ہی استعمال کرنے کے لیے محفوظ کیا تھا۔ اسی طرح قطر بھی خیلج فارس سے پیوریفائی کیے ہوئے پانی پر منحصر ہے۔ سعودی عرب جہاں زیر زمین بھی پانی کی معقول موجودگی ہے، وہاں فی الحال پیوریفائی کیے ہوئے 50 فیصد پانی استعمال ہوتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بدھ کے روز ہی یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ…
بھارتی فضائیہ کے 94ویں یومِ تاسیس کے موقع پر ملک بھر میں جوش و خروش…
معروف بھارتی اداکار نانا پاٹیکر کے انتقال پر صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو اور نائب صدر…
نانا پاٹیکر نے اپنے تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط کریئر میں کئی دمدار اور یادگار…
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ 2022 میں 5جی کے آغاز سے لے کر 2024…
نانا پاٹیکر نے 1978 میں ڈرامہ فلم ’گمن‘ سے ہندی سنیما میں قدم رکھا تھا۔…