واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کے لیے مختلف امکانات پر غور کر رہے ہیں اور اس بات کو واضح کیا ہے کہ اس مقصد کے لیے امریکی فوج کے استعمال کا آپشن بھی خارج از امکان نہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے سی این این کو دیے گئے بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ یہ بات کئی بار واضح کر چکے ہیں کہ گرین لینڈ کا حصول امریکہ کی قومی سلامتی کی ترجیح ہے، خاص طور پر آرکٹک خطے میں امریکی مخالف قوتوں کو روکنے کے لیے یہ انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر اور ان کی ٹیم اس اہم خارجہ پالیسی ہدف کے حصول کے لیے مختلف راستوں پر غور کر رہی ہے اور امریکی فوج کا استعمال بطور سپریم کمانڈر صدر کے اختیارات میں شامل ہے۔
وسائل سے مالا مال گرین لینڈ میں امریکی دلچسپی
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حال ہی میں قانون سازوں کو گرین لینڈ خریدنے میں امریکی حکومت کی نئی دلچسپی کے بارے میں بریفنگ دی۔ تاہم، انہوں نے فوری فوجی کارروائی کے امکان کو کم قرار دیا۔ اگرچہ حالیہ مہینوں میں اس معاملے کو عوامی سطح پر نمایاں نہیں کیا گیا، مگر رپورٹ کے مطابق امریکی حکام اندرونی طور پر اس پر مسلسل غور و خوض کر رہے ہیں۔ اس دوران اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے گرین لینڈ کے قدرتی وسائل، بالخصوص ریئر ارتھ منرلز کے بارے میں ایک جائزہ بھی لیا ہے، تاہم سخت موسمی حالات اور محدود بنیادی ڈھانچے کے باعث ان وسائل کے حصول کو انتہائی مہنگا قرار دیا گیا ہے۔
ٹرمپ کا سخت مؤقف، ڈنمارک پر سوالات
صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں زیادہ جارحانہ خارجہ پالیسی اپناتے ہوئے کہا: ’’قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے ہمیں گرین لینڈ کی ضرورت ہے، اور ڈنمارک یہ کام نہیں کر سکتا۔‘‘ وائٹ ہاؤس کے سینئر مشیر اسٹیفن ملر نے بھی کہا کہ گرین لینڈ کے مستقبل پر کوئی ملک امریکہ سے فوجی محاذ آرائی نہیں کرے گا، حالانکہ ڈنمارک نیٹو کا اتحادی ملک ہے۔
یورپی ممالک کا مشترکہ بیان، نیٹو پر خطرے کی وارننگ
امریکہ کی نئی دلچسپی کے بعد یورپ کے کئی ممالک نے ڈنمارک کی حمایت میں مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ گرین لینڈ اس کے عوام کا ہے اور آرکٹک خطے کی سلامتی نیٹو اتحادیوں کے باہمی تعاون سے ہی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے خبردار کیا کہ ٹرمپ کے عزائم کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور کہا کہ اگر امریکہ نے گرین لینڈ کے خلاف فوجی اقدام کیا تو اس سے نیٹو اتحاد کا خاتمہ بھی ہو سکتا ہے۔
امریکی سیاست میں بھی مخالفت
گرین لینڈ کے معاملے پر امریکہ کے اندر بھی اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔ ڈیموکریٹ سینیٹر روبن گیلیگو نے گرین لینڈ پر کسی بھی ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے قرارداد پیش کرنے کا اعلان کیا، جبکہ ریپبلکن رکن کانگریس ڈون بیکن نے بھی اس خیال کو ناقابل قبول قرار دیا۔ دونوں جماعتوں کے سینیٹرز نے مشترکہ بیان میں ڈنمارک کو قابلِ اعتماد اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی نیٹو اتحادی پر دباؤ ڈالنے کی بات خود ارادیت کے اصولوں کے منافی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی میں بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا تیسرا…
بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…
اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…
پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…
اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی نے اپنی روایتی ’لال ٹوپی‘ کے ساتھ ’نیلا رنگ‘…