ایران اور بھارت کے درمیان تعلقات محض سیاسی یا سفارتی نوعیت کے نہیں، بلکہ تہذیبی، تاریخی اور معاشی بنیادوں پر قائم ہیں۔ دونوں ممالک کا رشتہ ہزاروں برس پر محیط ہے اور اسی طویل ربط نے آج دونوں کو خطے کے اہم شراکت داروں میں بدل دیا ہے۔ ایران کی موجودہ آبادی تقریباً 8 کروڑ 96 لاکھ کے قریب ہے اور یہ رقبے کے لحاظ سے دنیا کا 17واں بڑا ملک تصور کیا جاتا ہے۔ بھارت اور ایران نے 1950 میں باضابطہ طور پر سفارتی تعلقات قائم کیے، مگر 1947 کی تقسیم سے قبل دونوں ممالک جغرافیائی طور پر ایک دوسرے کی سرحد سے جڑے ہوئے تھے۔ تقسیم کے بعد ایران وہ پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کیا اور 1965 و 1971 کی جنگوں میں ایران نے پاکستان کی حمایت بھی کی۔ ایران نے اس دور میں پاکستان کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت تک دی، جس سے دونوں ملکوں کی قربت ظاہر ہوتی ہے۔ تاہم 1988 میں مزارِ شریف میں 11 ایرانی سفارتکاروں کے قتل کے بعد پاکستان اور ایران کے درمیان فاصلے بڑھنے لگے۔
بھارت اور ایران کے تعلقات میں نئی گرمجوشی اُس وقت آئی جب 1974 میں وزیر اعظم اندرا گاندھی نے تہران کا دورہ کیا۔ اس دورے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تیل کی تجارت کا آغاز ہوا۔ آنے والے برسوں میں یہ رشتہ مزید مضبوط ہوا اور 2001 و 2003 میں تہران اور نئی دہلی میں اسٹریٹجک شراکت داری کے اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ بعدازاں جب بھارت اور امریکہ کے درمیان سول نیوکلیئر معاہدے پر گفتگو ہوئی تو ایران پر امریکی پابندیوں نے اس تعلق میں پھر سے کچھ پیچیدگیاں پیدا کیں۔ امریکہ کی سخت پابندیوں کے باوجود بھارت نے ایران سے کچا تیل خریدنے کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں روکا، اگرچہ اس کی مقدار میں نمایاں کمی ضرور آئی۔
آج بھی ایران بھارت کے لیے توانائی کے اہم ذرائع میں شامل ہے۔ بھارت، ایران کو دواسازی کی اشیا، چائے، چاول، گندم، شکر، کافی اور ٹیکسٹائل برآمد کرتا ہے۔ دوسری جانب بھارت ایران سے تیل کے علاوہ خشک میوہ جات جیسے پستہ، بادام، کھجور، کیسر، کیمیکل اور معدنیات درآمد کرتا ہے۔ دونوں ملک توانائی، آئی ٹی، مائننگ، فارما، ٹرانزٹ اور تجارت کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھا رہے ہیں۔ تجارتی ادائیگیوں کے لیے روپیہ–ریال نظام بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ایران بین الاقوامی نارتھ–ساوتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور (آئی این ایس ٹی سی) میں بھارت کا اہم ساتھی ہے، جبکہ چابہار بندرگاہ اور متعلقہ ریلوے منصوبہ بھارت کی خطے میں رسائی کے لیے اسٹریٹجک حیثیت رکھتا ہے۔
ثقافتی سطح پر فارسی زبان دونوں ممالک کو مضبوطی سے جوڑتی ہے۔ بھارت میں فارسی ادب، شاعری اور صوفی روایت پر ایران کا گہرا اثر رہا ہے۔ متعدد صوفی بزرگ جو برصغیر میں مشہور ہوئے، ان کی جڑیں ایران سے وابستہ تھیں۔ دفاعی شعبے میں اگرچہ دونوں ممالک کی کوئی براہِ راست عسکری شراکت داری نہیں، لیکن باقاعدہ دفاعی مکالمہ، سکیورٹی رابطے اور خفیہ معلومات کے تبادلے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف یکساں مؤقف رکھتے ہیں۔ بھارت–ایران تعلقات آج بھی خطے کی سیاست اور تجارت کا اہم ستون ہیں، جہاں تاریخی رشتے جدید اسٹریٹجک تعاون میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…
صدر دروپدی مرمو نے کیوڈیا میں منعقدہ تقریب میں فلمی شخصیات کو قومی اعزازات سے…