بین الاقوامی

Violence escalates in Bangladesh: یونس کی عبوری حکومت کے دوران بنگلہ دیش میں تشدد میں اضافہ، رپورٹس میں حیران کردینے والے انکشاف

ڈھاکہ میں انتخابی سرگرمیوں میں تیزی کے ساتھ ہی ملک میں تشدد، بدامنی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی خبریں مسلسل سامنے آرہی ہیں۔ امکان ہے کہ رواں ہفتے کسی بھی وقت انتخابی شیڈول کا اعلان ہو جائے، تاہم اس سے پہلے ہی ملک میں مختلف نوعیت کے تشدد نے سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔

بھیڑ کے ہاتھوں تشدد اور اموات

انسانی حقوق کی معاون تنظیم ہیومن رائٹس سپورٹ سوسائٹی (HRSS) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، جنوری سے نومبر 2025 تک بنگلہ دیش میں بھیڑ کے تشدد کے 276 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ ان واقعات میں 156 افراد ہلاک اور242 زخمی ہوئے، یعنی اوسطاً ہر ماہ تقریباً 14 افراد اس تشدد کا نشانہ بنے۔

خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد میں خوفناک اضافہ

رپورٹ کے مطابق 1,909 خواتین اور لڑکیوں کو جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جن میں 789 ریپ کے کیس شامل ہیں۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ان واقعات کی آدھے سے زیادہ متاثرین کی عمر 18 برس سے کم تھی۔ HRSS کی ’’ہیومن رائٹس آبزروییشن رپورٹ 2025‘‘ میں جنوری سے نومبر کے درمیان ملک میں انسانی حقوق اور قانون و نظم کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔

یونس کی عبوری حکومت کے بعد بھی حالات میں بہتری نہیں

اخبار دی ڈیلی اسٹار کی رپورٹ کے مطابق، HRSS نے اپنی تحقیق کیلئے 15 قومی اخبارات اور اپنے مشاہداتی ڈیٹا کا استعمال کیا۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ اگست 2024 میں محمد یونس کی عبوری حکومت کے قیام کے بعد بھی ملک میں قانون و نظم اور انسانی حقوق کی صورتحال بہتر نہیں ہوئی، بلکہ اب بھی شدید تشویشناک حالت میں ہے۔

سیاسی تشدد، مذہبی مقامات اور صحافیوں پر حملے

رپورٹ کے مطابق ملک میں سیاسی تشدد، انتقامی حملوں، جنسی جرائم، مذہبی مقامات پر توڑ پھوڑ اور صحافیوں کے خلاف تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پولیس کی حراست یا جھڑپوں کے دوران 31 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ مختلف جیلوں میں 80 قیدی ہلاک ہوئے۔

سیاسی جماعتوں کے اندرونی جھگڑے اور خونریزی

سال کے دوران 852 سیاسی تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 474 جھگڑے BNP اور اس کی اتحادی تنظیموں کے اندرونی تنازعات کا نتیجہ تھے۔ ان جھگڑوں میں 80 افراد ہلاک اور 4,577 زخمی ہوئے۔ BNP اور جماعت اسلامی کے درمیان 55 جھڑپیں ہوئیں جن میں دو افراد ہلاک اور 503 زخمی ہوئے۔

صحافیوں پر حملوں میں اضافہ

بنگلہ دیش میں صحافیوں پر تشدد کے 293 واقعات درج ہوئے، جن میں 2 صحافی ہلاک، 256 زخمی ہوئے۔ 47 کو ہراساں کیا گیا،  74 کو دھمکایا گیا جبکہ 14 کو گرفتار کیا گیا۔ مزید یہ کہ 105 صحافیوں پر 31 مقدمات درج کیے گئے، جن میں سائبر سکیورٹی ایکٹ 2023 کے تحت 5 مقدمات شامل ہیں۔ مارچ میں ڈھاکہ میں رپورٹنگ کے دوران ایک خاتون صحافی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا افسوسناک واقعہ بھی رپورٹ ہوا۔

اقلیتوں پر حملے اور عبادت گاہوں کی توڑ پھوڑ

رپورٹ کے مطابق اقلیتی برادری پر کم از کم 24 حملے کیے گئے جن میں 15 افراد زخمی ہوئے۔ اس دوران 5 مندر، 37 مورتیوں اور 38 گھروں کو نقصان پہنچایا گیا۔ مجموعی طور پر 50 سے زائد مذہبی مقامات پر حملے، توڑ پھوڑ یا لوٹ مار کی گئی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Gold-Silver Price: صارفین کے لیے خوشخبری! مقامی صرافہ بازار میں سونا تقریباً 1000 روپے سستا، جانیے آج کی تازہ قیمتیں

سونے کی قیمتوں میں نرمی سے خریداروں کو راحت، مقامی زیورات کی مارکیٹ میں 22…

7 minutes ago

Gautam Adani: ’قابل اعتماد اعداد و شمار اور شفاف حکمرانی ہی بھارت کی اصل طاقت‘، گوتم اڈانی نے کی مائیکل بلومبرگ کے وژن کی تعریف

اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے بھارت کی ترقی کے حوالے سے بلومبرگ کے…

14 minutes ago

PM Modi Meet Indian Asian Games Contingent: وزیر اعظم نریندر مودی 15 اکتوبر کو ایشین گیمز کے ہندوستانی دستے سے کریں گے ملاقات

جاپان میں 85 تمغے جیتنے والے ہندوستانی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کریں گے وزیر اعظم،…

26 minutes ago

IPL 2027: ممبئی انڈینز کو ملے گا اپنا ’راجہ‘ واپس! کیا روہت شرما پھر سنبھالیں گے ٹیم بلیو کی کمان؟

ممبئی انڈینز میں ایک بار پھر قیادت کی تبدیلی کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی…

56 minutes ago

Manoj Tiwari Address Students: مہاراجا اگرسین کالج میں منوج تیواری کا نوجوانوں کو پیغام، کہا- زندگی کی اقدار اور ہنر کے ساتھ کامیابی کی راہ طے کریں

دہلی یونیورسٹی کے مہاراجا اگرسین کالج میں طلبہ یونین کی حلف برداری تقریب کے دوران…

1 hour ago